کے الیکٹرک کاصارفین کراچی پرظلم کرنےکی درخواست

کے الیکٹرک کی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 11 روپے 33 پیسے اضافے کی درخواست

کراچی (سٹی رپورٹر)کے الیکٹرک(کے ای) نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے توثیق شدہ ملٹی ایئر ٹیرف کے مطابق مئی 2022  کے لیے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی مد میں فی یونٹ 11 روپے 33 پیسے اضافے کی درخواست کی ہے۔

پورے ملک میں لاگو ٹیرف طریقہ کار کے مطابق ایف سی اے کا ہر ماہ جائزہ لینے کے بعد اس کا اطلاق صارفین کے بلوں پر صرف ایک ماہ کیا جائے گا۔

فرنس آئل کی قیمت میں اضافے اور سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے۔ جی) سے خریدی گئی مہنگی بجلی کے باعث مئی 2022 کی ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ پر بڑے اثرات مرتب  ہوئے۔

مئی 2022ء میں فرنس آئل کی قیمت میں مارچ 2022ء کی نسبت 38 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مارچ سے مئی 2022ءکے درمیان آر ایل این جی کی قیمت  50 فیصد بڑھ گئیں۔

مئی 2022ء میں سی پی پی اے۔ جی سے خریدی گئی بجلی کی قیمت میں 53 فیصد اضافہ ہوا۔

مئی 2022ء میں سی پی پی اے۔ جی سے خریدی گئی بجلی کی قیمت 13.897 روپے فی کلوواٹ تھی، جبکہ مارچ 2022  میں 9.098 روپے فی کلوواٹ کے حساب سے بجلی خریدی گئی تھی۔

فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ بجلی کی پیداوار اور جنریشن مکس کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمتوں میں عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے یوٹیلیٹیز کے ذریعے خرچ کیا جاتا ہے۔

یہ اخراجات نیپرا کی جانچ پڑتال اور منظوری کے بعد صارفین تک براہ راست منتقل کردئیے جاتے ہیں۔ اس کا اطلاق صرف ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے

ایندھن کی قیمت کم ہونے سے صارفین کو  اس کا  فائدہ منتقل کر دیا جاتا ہے ۔نیپرا  رول کے مطابق کے الیکٹرک کی درخواست پر 4 جولائی کو عوامی سماعت کی جائے  گی، نپیرا انتظامیہ جانچ پڑتال کے بعد ایف سی اے کا تعین کرے گی

اور ساتھ ہی اُس مدت کا بھی تعین کیا جائے گا، جس کے بعد اسے صارفین کے بلوں میں  منتقل کر دیا جائے گا ۔

کے الیکٹرک کے بارے میں کے الیکٹرک ایک پبلک لسٹڈ کمپنی ہے جس کو پاکستان میں 1913ء میں کے ای ایس سی کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔

2005ء میں نجکاری کر دی گئی کے ای پاکستان میں واحد  ادارہ ہےجو کراچی اور اس کے ملحقہ علاقوں سمیت 6500 کلومیٹر 2 علاقے میں بجلی فراہم کرتی ہے۔

کمپنی کے زیادہ تر حصص 66.4 فیصد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کے ای ایس پاور کی ملکیت میں درج ہیں،

سرمایہ کاروں کا ایک کنسورشیم جس میں سعودی عرب کی الجومعہ پاور لمیٹڈ، نیشنل انڈسٹریز گروپ (ہولڈنگ)، کویت، اور انفراسٹرکچر اینڈ گروتھ کیپٹل فنڈ
(آئی جی سی ایف )شامل ہیں۔ حکومت پاکستان بھی کمپنی میں 24.36فیصد کی شراکت دار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: