واشنگٹن: سعودی شہزادےمحمد بن سلمان نے بااثر یہودی تنظیموں کے سربراہان سے ملاقات میں کہا ہے کہ فلسطینی یا تو امریکا کی جانب سے پیش کیا جانے والا امن معاہدہ قبول کریں یا اپنا مطالبہ واپس لیں۔
تفصیلات کے مطابق بااثر یہودی تنظیمیوں کے سربراہان سے ملاقات میں محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو اور بہت سے مسائل کا سامنا ہے اس لیے فلسطین ہماری پہلی ترجیح نہیں ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ ماہ امریکا کے دورے کے دوران 27 مارچ کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے نیو یارک میں یہودیوں کی مختلف تنظیموں کے سربراہان سے بند کمرے میں ملاقات کی۔
اس ملاقات میں محمد بن سلمان نے فلسطینی صدر محمود عباس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، یہ تمام معلومات اسرائیلی وزارت خارجہ کی ایک سفارتی کیبل سے حاصل کی گئی جو نیو یارک میں قائم اسرائیلی قونصلیٹ سے بھجوائی گئی۔
اس کے علاوہ ایسے 3 امریکی اور اسرائیلی افراد جنہیں اس میٹنگ کے بارے میں بریفنگ دی گئی ان سے بھی معلومات حاصل کی گئی ہیں۔
یہودی تنظیموں کے سربراہان سے ملاقات میں شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ فلسطینی قیادت کو امریکا کی جانب سے پیش کیے جانے والے امن معاہدے کی پیشکش قبول کرلینی چاہیے بصورت دیگر فلسطینی شکوے بند کریں۔
محمد بن سلمان نے یہودیوں سے مزید کہا ’ گزشتہ کچھ دہائیوں کے دوران فلسطینی قیادت نے ایک کے بعد ایک موقع گنوایا اور امن کی پیشکشوں کو مسترد کیا، اب وقت آگیا ہے کہ فلسطینیوں کو امن کی پیشکش قبول کرتے ہوئے مذاکرات کی جانب آنا چاہیے یا وہ اپنی بکواس اور شکایتوں کا سلسلہ بند کریں۔ خیال رہے کہ محمد بن سلمان نے فلسطینیوں کیلئے شٹ اپ کا لفظ استعمال کیا۔
محمد بن سلمان نے یہودیوں کے سامنے مزید دو نکات بھی پیش کیے۔ پہلے نمبر پر تو انہوں نے یہودیوں پر یہ واضح کیا کہ فلسطین کا مسئلہ سعودی حکومت یا عوام کی پہلی ترجیح نہیں ہے، کیونکہ سعودی عرب کے پاس بہت سے دیگر ایسے مسائل موجود ہیں جن کا فوری طور پر سامنا کرنا انتہائی ضروری ہے جن میں سے ایک ایران کا خطے میں بڑھتا ہوا اثرو رسوخ ہے۔
محمد بن سلمان نے یہودی تنظیموں کے سربراہان کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ نہ صرف سعودی عرب بلکہ تمام خلیجی ممالک اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنائیں گے جس کے باعث اسرائیل فلسطین امن مذاکرات میں بڑی پیشرفت ہوگی۔
ویب سائٹ نے اپنے ایک ذریعے (جو اس ملاقات میں موجود تھا ) کے حوالے سے کہا کہ جب شرکا (یہودی تنظیموں کے سربراہان)نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے فلسطین سے متعلق خیالات سنے تو کسی کو بھی یقین نہیں آیا اور کرسیوں سے گرنے والی صورتحال پیدا ہوگئی۔
واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل فلسطین امن معاہدے کی ڈرافٹنگ مکمل ہوچکی ہے، یہ معاہدہ ٹرمپ کے داما جیرڈ کشنر نے تیار کیا ہے، وہ پہلے ہی اس معاہدے کے حوالے سے محمد بن سلمان کو اعتماد میں لے چکے ہیں۔ خیال رہے کہ جیرڈ کشنر انتہائی با اثر یہودی خاندان کے چشم و چراغ ہیں ، ان کی اہلیہ اور امریکہ کی فرسٹ ڈاٹر ایوانکا ٹرمپ نے بھی شادی کے وقت عیسائیت چھوڑ کر یہودی مذہب اختیار کرلیا تھا۔
خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
