Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
اسلامی اتحاد کا دائرہ مزید دو ملکوں تک بڑھانے کا فیصلہ | زرائع نیوز

اسلامی اتحاد کا دائرہ مزید دو ملکوں تک بڑھانے کا فیصلہ

ابو ظہبی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے خطے میں بڑھتے ہوئے ایرانی اثرو رسوخ کو کنٹرول کرنے اور داعش کے خلاف عسکری حکمت عملی کے تحت گزشتہ ہفتے یمن میں اپنے فوجیوں سمیت عسکری سازو سامان اتار دیا۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق یو اے ای نے یمن اور صومالیہ میں بیس قائم کرنے اور فوجیوں کو تعینات کرنے کے لئے متحرک ہے۔

یمنی حکومت نے الزام عائد کیا کہ یو اے ای نے ان کے اسکورٹارا جزیرے اور اس کے ایئرپورٹ پر قبضہ کرلیا اور یواے ای جزیرے سے ‘کمرشل اور سیکیورٹی مفادات’ کا وسیع گیم کھیلے گا جس کے مقاصد میں یمن کو اپنی نوآبادیات میں تبدیل کرنا بھی ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق یو اے ای کو یمن سے کچھ نہیں ملے گا، ہاں! یمن کے شہری غریب ہیں لیکن وہ اپنی خود مختاری کے لیے لڑائی لڑیں گے۔

یو اے ای کی وزارت خارجہ نے بیان جاری کیا کہ وہ یمن کی حکومت کا احترام کرتے ہیں اور ‘امن اور استحکام کے خواہاں ہیں اور جزیرے کے رہائشیوں کے لیے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے’۔

واضح رہے کہ یو اے ای نے بحیرہ احمر (ریڈ سی) کی ساحلی پٹی پر مقامی آرمی کے یونٹس قائم کرلیے ہیں۔

یو اے ای نے اپنی فوج کو بہتر خطوط پر استوار کرنے کے لیے آسٹریلیا کی اسپیشل فورسز کے سابق جنرل مائیک ہینڈ مارش کی خدمات حاصل کی ہیں۔

مغربی سفارتکاروں کا خیال ہے کہ ‘یو اے ای دشمنوں کے خلاف لڑائی کو خطے میں پھیلانا چاہتے ہیں’۔

گلف سے ایک ذرایع نے کہا کہ یو اے ای کا مقصد خطے میں اپنے مفادات کا تحفظ ہے اور داعش کے خلاف نئی بھریاں کی جارہی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس مئی میں ایرانی وزیر دفاع جنرل حسین دیگہان نے کہا تھا کہ’ایران کا سعودی شہزادے کو مشورہ ہے کہ وہ ایسی حماقتوں سے باز رہیں ورنہ سعودیہ میں دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ کے علاوہ کچھ نہیں بچے گا۔‘