بیوی سے تنگ آکر بینک لوٹنے والے شخص پر جرم ثابت

امریکی شہر کنساس میں ‘بیوی سے تنگ’ آکر بینک لوٹنے والے 70 سالہ شخص پر بینک ڈکیتی کا الزام ثابت ہوگیا۔ مقامی ویب سائٹ کنساس سٹی ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق لارنس جون رپل نے پیر 23 جنوری کو کنساس میں امریکا کی ڈسٹرکٹ کورٹ کے سامنے گذشتہ برس ستمبر میں ایک بینک لوٹنے کا اقرار کیا۔

گذشتہ برس ستمبر میں 756 مینیسوٹا ایو پر واقع بینک آف لیبر میں ڈکیٹی کا الزام عائد ہونے کے بعد لارنس جون رپل کو ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔

23 جنوری کو سماعت کے دوران وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ عدالت میں موجود تھے اور انھوں نے استغاثہ کی رضامندی کے بغیر اپنے جرم کا اقرار کرلیا، جس کے بعد استغاثہ اور وکیل دفاع اس حوالے سے بحث کے لیے آزاد ہیں کہ ان کے لیے کیا سزا مناسب رہے گی۔

رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ جمع ہونے کے بعد جج سزا کے دن کے تعین کے لیے تاریخ دیں گے۔ دوسری جانب رپل اور ان کی اہلیہ نے سماعت کے بعد کسی بھی قسم کے تبصرے سے انکار کردیا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق لارنس جون رپل نے گذشتہ برس کنساس سٹی میں واقع ایک بینک لوٹا تھا۔

دستاویزات کے مطابق بینک کی سرویلینس ویڈیو میں دیکھا گیا کی لارنس جون رپل نے ٹیلر کو ہاتھ سے لکھا ہوا ایک نوٹ تھمایا جس پر درج تھا، ‘میرے پاس پستول ہے، مجھے رقم دے دو’۔

جس پر ٹیلر نے انھیں 2,924 ڈالرز کی رقم تھما دی، لیکن بینک سے فرار ہونے کے بجائے رپل وہیں بیٹھے رہے۔

جب بینک کا سیکیورٹی گارڈ ان تک پہنچا تو رپل نے بتایا کہ ‘میں ہی وہ شخص ہوں، جس کی آپ کو تلاش ہے’، جس کے بعد گارڈز نے انھیں حراست میں لے کر رقم برآمد کرلی۔

بعدازاں پولیس اور ایف بی آئی کی جانب سے تفتیش کے دوران لارنس جون رپل نے بتایا کہ ان کا اپنی بیوی سے ایک دن قبل جھگڑا ہوا تھا اور انھوں نے کہا کہ ‘وہ اس صورتحال میں مزید نہیں رہنا چاہتے’۔

دستاویزات کے مطابق لارنس جون رپل نے اپنی بیگم کے سامنے مذکورہ نوٹ تحریر کیا اور انھیں بتایا کہ وہ گھرکے بجائے جیل میں رہنا زیادہ پسند کریں گے، جس کے بعد وہ بینک پہنچے اور ڈکیتی کر ڈالی۔

بشکریہ ڈان اردو

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں