ضلع ملیر میں جوئے اور غیرقانونی کاموں کا دھندا عروج پر

کراچی(کرائم رپورٹر) ایس ایس پی ملیر کے چارج لئے  تین ہفتے نہیں ہوئےکہ تین تھانوں کی سرپرستی میں باونڈ،پرچی پر کھیلے جانے والے جوئے کے اڈے قائم کردیئے گئے۔.

باخبر زرائع کے مطابق  ضلع ملیرکے ایس ایس پی راوانوار نے چارج لئے تین ہفتے میں شرافی گوٹھ،سکھن،قائدآباد تھانے کی حدود میں گل سیٹھ نامی شخص کو بھاری رشوت کے عوض موئکل دی گئی ہے۔

زرائع کے مطابق گل سیٹھ نامی بدنام جوائے باز قائدآباد تھانے کی حدود ، دادو چالی کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ گل سیٹھ نے مذکورہ تھانوں کی حدود میں اپنے کارندوں کے ذریعے باونڈ،پرچی پر کھیلے جانے والے جوئےکے اڈے کھلم کھلا کھول رکھے ہیں۔

سکھن تھانے کی حدودمیں گل سیٹھ کا کارندا بشارت نامی شخص  بھینس کالونی دس نمبرروڈ پر باونڈ ،پرچی پر کھیلے جانے والے جواء چلوارہاہے۔قائدآباد تھانے کی حدود میں چار مقامات پر جوئے کے اڈے چل رہے ہیں۔

مجید کالونی گوشت والے گلی میں ڈی جے کے نام سے قائم دوکان میں طالب بنگالی نامی گل سیٹھ کا کارندا جوئے کا اڈا چلا رہا ہے۔دوسراباونڈ پرچی کا اڈا شیر پاو خسینی چورنگی میں حاجی کبہاڑی کے دوکان میں قائم ہے جہاں گل سیٹھ کاکارندا ضیاء دین نامی شخص چلاتاہے۔

گل احمد چورنگی اور داود چالی میں بھی گل سیٹھ کے باونڈ پر چی پرکھیلےوالے جوئے کےاڈے قائدآبادپولیس کی سرپرستی میں کھلم کھلا شام چھ بجے سے رات گئے تک کھلے رہتے ہیں۔

ذررائع کا  مذید یہ کہنا ہے کہ قائد آباد میں چلنے والے اڈوں کے عوض ہفتہ  بیس ہزار روپے بھتہ ادا کیا جاتا ہے جبکہ شرافی گوٹھ تھانے کی حدوداٹک پیٹرول پمپ کے سامنے اللہ داد گوٹھ میں طاہر ،بازی ،راوئیل باونڈ پرچی پر کھیلےجانے والے  جوئے کے اڈا چلا رہے ہیں۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گل سیٹھ جوئے اور باؤنڈز کا دھندا کرنے کے لیے ماہانہ لاکھوں روپے رشوت اعلیٰ افسران کو باقاعدگی سے ادا کرتا ہے جس کی وجہ سے ان مقامات پر پولیس بھی کارروائی کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔

یاد رہے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے عہدے پر بحال ہوتے ہی جرائم پیشہ افراد اور جوئے کے اڈوں کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کیے تھے اور اعلان کیا تھا کہ اُن کے ضلع میں کسی جرائم پیشہ فرد کی جگہ نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں