Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
سبیکا شیخ کے جنازے میں‌کیا ہوا؟‌ | زرائع نیوز

سبیکا شیخ کے جنازے میں‌کیا ہوا؟‌

کراچی: امریکی ریاست ٹیکساس کے اسکول میں فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی پاکستانی طالبہ سبیکا عزیز شیخ کی ہزاروں سوگوران کی موجودگی میں تدفین کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق سبیکا شیخ کا جسد خاکی کل رات نجی ائیرلائن کے ذریعے 3:55 منٹ پر کراچی ائیرپورٹ لایا گیا، ائیرپورٹ سیکیورٹی فورس کے جوانوں نے تابوت قبضے میں لے کر سلامی پیش کی۔

والد اور امریکی سفارت خانے کے قونصل جنرل رات کو موجود تھے اس کے علاوہ کوئی حکومتی یا سیاسی جماعت کا نمائندہ موجود نہیں تھا۔

سبیکا کی میت کو سخت سیکیورٹی حصار میں گھر منتقل کیا گیا جہاں پہلے سے موجود ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے مقتولہ کے تابوت کو دیکھ کر آہوں سسکیوں کے ساتھ استقبال کیا۔

بعد ازاں صبح 9 بجے گلشن اقبال میں واقع حکیم سعید گراؤنڈ میں پاکستانی طالبہ کا نماز جنازہ ادا کیا گیا جس میں گورنر سندھ محمد زبیر، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، پیپلز پارٹی رہنما سعید غنی، پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال سمیت سیاسی رہنماؤں اور شہریوں کی بڑی تعداد حکیم سعید گراؤنڈ میں موجود تھی اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

بیت المکرم مسجد کے خطیب نے طالبہ کی نماز جنازہ پڑھائی جس کے بعد میت بس کے ذریعے جسد خاکی کو شاہ فیصل کے عظیم پورہ قبرستان لے جایا گیا اور وہاں پر مقتولہ کی تدفین ہوئی۔

سبیکا کی میت کی کراچی آمد

سبیکا شیخ کی میت ترکش ایئرلائن کی پرواز ٹی کے 708 کے ذریعے آج صبح 4 بجے کے قریب کراچی پہنچی تھی۔

کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر  ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) اہل کاروں نے سبیکا کی میت کو سلامی دی۔

ٹیکساس ہائی اسکول فائرنگ

کراچی کی رہائشی 17 سالہ سبیکا عزیز شیخ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کینیڈی لوگریوتھ ایکسچینج اینڈ اسٹڈی اسکالر شپ پروگرام کے تحت گزشتہ برس 21 اگست کو 10 ماہ کے لیے امریکا گئی تھیں اور 9 جون کو انہیں وطن واپس آنا تھا۔