اسلام آباد: اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ رمضان المبارک معاشرے میں خیر کی علامت سمجھا جاتا ہے مگر ہمارے یہاں شوز میں مجرے کرائے جاتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں رمضان المبارک کے دوران چلنے والے انعامی شوز کیس کی سماعت ہوئی، جس میں تمام میڈیا چینلز کے وکلاء پیش ہوئے۔
سماعت کا آغاز ہوتے ہی جسٹس شوکت صدیقی نے استفسار کیا کہ یہ بول ٹی وی کے مالک شعیب شیخ عدالت میں پیش کیوں نہ ہوئے؟ جس پر شعیب شیخ کے وکیل نے کہا کہ اگر عدالت حکم دے تو آئندہ سماعت پر پیش ہوجائیں گے۔
بول کے وکیل نبیل احمد کا کہنا تھا کہ پیمراحکم دے چکی ہے کہ نو بجے کے بعد پروگرام کیا اور اسے نشر کیا جاسکتا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کے رمضان پروگرام میں جو ہوتا ہے تو وہ سب معلوم ہے۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسی اداکارہ کو شو میں مہمان کے طور پر مدعو کیا جاتا ہے جو اپنے برہنہ جسم پر ٹیٹو بنواتی ہے اور شو کا ہوسٹ کہتا پھرتا ہے مجھے آئی ایس آئی کا ایجنٹ کہو کیونکہ میں را کا ایجنٹ نہیں۔
جسٹس شوکت عزیزصدیقی نے کہا کہ بہت مشکل ہے کہ کس کو محب وطن اور غدار سمجھیں، اگر میڈیا ریٹنگ میں کچھ کم ہو جائے تو کیا ہو جائے گا، رمضان میں متنازعہ اداکارہ کو بلاکر شوز اس لیے کروائے جاتے ہیں کہ سب پیسہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں، کسی کو پاکستان کی تعمیر میں دلچسپی نہیں ۔
چیف جسٹس نے روسٹروم پر ساحر لودھی کو طلب کر کے ریمارکس دیے کہ آپ کو شرم آنی چاہیے، صبح کے پروگرام میں معصوم بچیوں سے مجرا کرواتے ہو۔
مزید ریمارکس سامنے آئے کہ رمضان المبارک کو معاشرے میں خیر کی علامت سمجھا جاتا ہے مگر یہاں کچھ بہتر نہیں، آپ لوگوں کو بلاکر ہمیں کوئی خوشی نہیں ہوتی۔
ساحر لودھی کا کہنا تھا کہ عدالت کی بہت عزت کرتا ہوں، میں ذاتی طور پر عدالت کے ایسے فیصلے کی حمایت کرتاہے، رمضان کے آغاز کیساتھ ہی پروگرام کوختم کر دیا جس پر چیف جسٹس نے توہین عدالت کا نوٹس واپس لینے کا عندیہ دیا۔
ساحر لودھی کا کہنا تھا کہ میں بھی آپکی طرح عاشق رسول ہوں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ میں عاشق رسول نہیں آپ ضرور ہوں گے، کیونکہ میں تو عاشق رسول کے جوتوں کی خاک بھی نہیں۔ شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ رمضان پروگرامز میں آپ لوگ تجوید قرآن پروگرام کیوں نہیں کرتے۔
ساحر لودھی کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکم کے مطابق پروگرامز میں پی ایچ ڈی اسکالرز کو مدعو کیا جارہا ہے جبکہ پیمرا نے رات نو بجے کے بعد شو نشر کرنے کی اجازت دے دی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میں حضور اکرم کے پاس لاٹری کاٹکٹ لیکر کس منہ سے جاٶں گا کیونکہ حج عمرہ صاحب استطاعت پر فرض ہے۔
جسٹس شوکت عزیز نے کہا کہ عامر لیاقت نے میری ذات کے حوالے سے بات کی جس کو میں نے نظر انداز کردیا مگر حقیقت یہ ہے کہ اُن کے چکر میں بڑے بڑے ٹائی ٹینک جیسے جہاز ڈوب جاتے ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل روسٹروم پر آئے اور انہوں نے عدالت کا آگاہ کیا کہ عامرلیاقت نے کہاکہ نمازبکتی ہے تو رمضان بھی بیچوں گا۔
جلوہ اور ایٹ ایکسن کے خلاف معاملہ نوٹس سے بڑھ چکا ہے، ایٹ ایکسن اورجلوہ کے خلاف بہت سی شکایات ہیں، دیکھنا ہوگا کہ چینلوں کے مالکان کے تانے بانے کہاں ملتے ہیں۔جسٹس شوکت عزیزصدیقی
عدالت نے شعیب شیخ ساحر لودھی نبیل احمد کوشوکاز کے نوٹس واپس لے لیے، عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ بول کے وکیل اور سی ای او کے وکیل کے دلائل سے مطمئن ہیں۔
عدالت نے کیس کی سماعت تیس مئی تک ملتوی کر دی
پیمرا عدالتی حکم پر من وعن عمل نہیں کرا سکی، پیمرا قوانین کے مطابق دس فیصد غیرملکی مواد دکھایا جاسکتا ہے تاہم کوئی بھی چینل لاٹری شوز نہیں دکھا سکتا۔
کیس کی سماعت تیس مئی تک ملتوی کردی گئی۔
