Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اسکاٹ لینڈ یارڈ‌ نے عمران فاروق قتل کیس کیوں‌ بند کیا؟‌ وجوہات | زرائع نیوز

اسکاٹ لینڈ یارڈ‌ نے عمران فاروق قتل کیس کیوں‌ بند کیا؟‌ وجوہات

لندن: برطانوی پولیس کے تفتیشی ادارے اسکاٹ لینڈ یارڈ کے سربراہ نے انکشاف کیا ہے کہ عمران فاروق قتل کیس میں پاکستان سے تعاون ختم ہوچکا ہے، تفتیش میں کئی پیچیدگیاں ہیں۔

اسکاٹ لینڈ یارڈ کے چیف کریسیڈاڈک نے8 سال بعد ہوم افیئر سلیکٹ کمیٹی کے سامنے اعترافی بیان دیتے ہوئے کہا کہ عمران فاروق قتل کیس کی تفتیش انتہائی سست روی کا شکار ہے اور اس پر لاکھوں ڈالر خرچ ہوچکے۔

انہوں نےمزید کہا کہ ایم کیو ایم رہنما کے قتل کی تفتیش آگے بڑھانےکےلئے پاکستان کے ساتھ مل مسائل حل کرنا ہوں گے، مقتول کے ملزمان پاکستان میں ہیں جن سے تفتیش تک رسائی نہیں دی جارہی اگر یہ معاملہ  دفتر خارجہ اور متعلقہ حکام کے فارم سے اٹھایا جائے تو قیدیوں کو واپس برطانیہ لاکر ازسرنو تفتیش کی جاسکتی ہے۔

لبیر پارٹی کی ممبرآف پارلیمنٹ ناز شاہ نے ہوم افیئر سلیکٹ کمیٹی میں معاملہ اٹھایا ،انہوں نے کہا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ عمران فاروق کے قاتل کیوں نہیں پکڑے جاتے؟

انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران فاروق کی بیوہ شمائلہ ، بیٹے عالیشان اور وجدان انصاف کے حقدار ہیں، یہ پوری فیملی کسم پرسی کی زندگی گزار رہی ہے۔ ناز شاہ نے استفسار کیا کہ لوگ پوچھتے ہیں کیا بانی ایم کیو ایم کو انگلینڈ میں ’امپیونٹی‘ کیوں حاصل ہے؟۔

اسکاٹ لیڈ یارڈ کے چیف نے یہ بھی کہا کہ عمران فاروق کیس پر بڑا خرچہ کیا مگر اُن کے قاتل دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں ضرور پکڑیں گے ۔

اُن کا کہنا تھا کہ بانی ایم کیو ایم کا عمران فاروق قتل سے کوئی تعلق نہیں، اسکاٹ لینڈ یارڈ نے اُن سے تفتیش کی جس میں کوئی سراغ نہیں ملا جس کی بنیاد پر انہیں کلیئر قرار دیا گیا۔

چیف کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی برطانوی شخص پر ادارے کی جانب سے اُس وقت تک مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا جو واردات میں ملوث نہ ہو، پاکستانی حکومت نے عمران فاروق کے قاتل پکڑنے کا دعویٰ 2007 میں کیا مگر انہوں نے 8 سال گزرنے کے بعد بھی ملزمان سے تفتیش کی رسائی نہیں دی۔


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔