کراچی: تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو وفاقی حکومت کا حصہ بننے اور کی دعوت دے دی، ملاقات میں کیا باتیں اور مطالبات سامنے آئے اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین گزشتہ رات کرانے پہنے پھر وہ مقامی قیادت کے ساتھ ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد پر گئے۔
ایم کیو ایم کی جانب سے تحریک انصاف کے وفد کے طعام کے لیے خصوصی انتظامات اور لوازمات رکھے گئے تھے، مرکز میں لگے تندرو سے گرم گرم روٹیاں مہمانوں کو پیش کی گئیں۔
دوران ملاقات ایم کیو ایم نے دوبارہ گنتی اور الیکشن کے انعقاد پر زور دیا، حلقہ بندیوں اور مردم شماری کے حوالے سے بھی ایم کیو ایم نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا جسے حل کرنے کے لیے جہانگیر ترین نے دلچسپی ظاہر کی البتہ دوبارہ گنتی یا انعقاد پر پی ٹی آئی قیادت نے انکار کردیا۔
ایک گھنٹے سے زائد وقت تک مذکراتی دور چلا جس کے بعد دونوں جماعتوں کے رہنما نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اور بات چیت کو مثبت قرار دیا۔
جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام نے پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم پاکستان کو مینڈیٹ دیا ہے، آگے بڑھنے کے لئے اپنا نہ سوچیں بلکہ عوام کا سوچنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح سے کراچی میں سرمایہ کاری ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہوئی،کراچی کے مسائل کا حل اولین ترجیحات میں سے ایک ہے، شہر میں پانی اور ٹرانسپورٹ کے مسائل بھی حل ہونے چاہئیں اور جب تک طاقت نچلے طبقے تک منتقل نہیں ہوگی مسائل شہر کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ ہم نے ایم کیو ایم کو کسی وزارت کی پیش کش نہیں کی اور نہ متحدہ قیادت نے کوئی مطالبہ کیا، کراچی اور عوام کے مسائل حل کرنے کی بات کی ہے، وفاق بھرپور طریقے سے کراچی کی ترقی میں شریک ہوگا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ کراچی کی ترقی و خوشحالی ہی پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا باعث ہوگی، ہم سب کو معلوم ہے کہ ترقی کراچی کے دروازے سے ہی پاکستان میں آئے گی، مضبوط اور آئینی طریقے کے مطابق بلدیاتی نظام آنا چاہیے۔ پورے پاکستان میں صوبے ہونے چاہئیں۔
ایم کیو ایم کنوینر کا کہنا تھا کہ حلقے کھولنے اور مردم شماری پر بات ہوئی ہے، جبکہ خود مختار بلدیاتی نظام پر بھی اتفاق ہوا ہے، ہم نے شخصی اور جماعتی سطح سے آگے بڑھ کر بات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کی بات رابطہ کمیٹی کے سامنے رکھیں گے، امید ہے کہ تعاون کی راہیں کھلیں گی، انتخابات سے متعلق جو تحفظات ہیں اس پر ایک دوسرے کی مدد بھی کریں گے۔
اس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ خوش آئند بات ہے کہ پی ٹی آئی کی ترجیحات میں کراچی کےمسائل شامل ہیں۔
خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
