وطن کو پاکستان کا نام دینے والی شخصیت ملک بدری کے بعد امانتاً دفن

پاکستان کا نام تجویز کرنے والی شخصیت چوہدری رحمت علی نے اپنی سیاست بصیرت اور صحافتی تجربے کی بنیاد پر وطن عزیز کے لیے بہت سی قربانیاں دیں مگر ہم نے اس کے بدلے اپنے محسن کو کیا دیا۔

چوہدری رحمت علی کی 66ویں برسی 3 فروری کو منائی جائے گی، آپ کی پیدائش 16 نومبر 1857 کو پنجاب کے ضلع ہوشیار پور کے گآں مورال میں ہوئی، ابتدائی تعلیم مقامی گاؤں میں حاصل کرنے کے بعد بقیہ تعلیم جاری رکھنے کے لیے اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ حاصل کیا۔

            گریجویشن کے بعد کشمیری اخبار کا اجرا کیا اور 1928 میں ایچی سن کالج میں بطور لیکچرار اپنے فرائض کی ادائیگی کا منصب سنبھالا تاہم کچھ عرصے بعد اپنی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے غرض سے انگلستان تشریف لے گئے۔ انگلینڈ جانے کے بعد کیمبرج اور ڈیلبن یونیورسٹی سے قانون اور سیاست کی ڈگریاں حاصل کیں۔

دوسری گول میز کانفرنس کے موقع پر اپنے پہلے کتابچے ناؤ کو متعارف کراوایا جس میں پہلی مرتبہ پاکستان کا لفظ تحریر کیا گیا تھا ساتھ ہی ہفت روزہ اخبار ڈیلی پاکستان کا اجرا کیا۔

لاہور کے منٹو پارک کے جلسے میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر انگلستان سے تشریف لائے مگر حکومت نے انہیں صوبہ بدر کردیا۔ قرارداد پاکستان پیش ہونے اور تقسیم برصغیر کی تحریک میں کامیاب کردار ادا کیا۔

پاکستان کے قیام کے ایک سال یعنی 1948 میں وطن واپس پہنچے تو یہاں کی بیوروکریسی اور کچھ نام نہاد سیاستدانوں نے قبول کرنے سے انکار کیا اور سازشوں کا جال بچھا دیا جس کے بعد چوہدری رحمت علی دوبارہ ملک چھوڑ کر انگلستان جانے پر مجبور ہوگئے۔

انگلستان میں دکھ کی زندگی اور اپنے ہی ملک میں تسلیم نہ کرنے کا غم لیے صرف چار سال کی زندگی بسر کی اور 1951 کو خالق حقیقی سے جا ملے، وصیت کے مطابق اُن کا جسد خاکی آج بھی انگلینڈ کے شہر کیمبرج کے قبرستان میں امانتاً دفن ہے تاہم حکومت اور بیورو کریسی جسد خالی کو واپس لانے اور وطن عزیر کا نام تجویز کرنے والے شخص کو اس مٹی میں دفن کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں