کراچی:‌ پولیس کی ملی بھگت، لشکر جھنگوی کے 2 دہشت گرد جیل سے فرار

کراچی: سینٹرل جیل سے گزشتہ روز فرار ہونے والے 2 قدیوں کی تلاش میں مختلف علاقوں میں تابڑ توڑ چھاپے مارے جارہے ہیں اور اس دوران 6 مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق دوروزقبل کراچی سینٹرل جیل سے فرارہونے والے دونوں قیدی اب تک پولیس کے ہاتھ نہیں لگ سکے ہیں، دونوں قیدیوں کی تلاش میں پولیس کی جانب سے قائد آباد ، گلشن اقبال لیموں گوٹھ ، غوثیہ کالونی، پی آئی بی کالونی اورلانڈھی میں چھاپے مارے گئے ہیں جب کہ کینٹ اسٹیشن، بس اڈوں اورکراچی سے باہرجانے والے راستوں کی ناکہ بندی سخت کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف علاقوں سے 6 مشتبہ افراد کوحراست میں بھی لیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شیخ محمد ممتازعرف فرعون عرف شیرخان عرف شہزاد عرف بھائی ولد شیخ محمد مسلم عرف شیخ محمد اسلم عرف محمد سلیم اور محمد احمد خان عرف منا ولد محمد شفیع کوفرارکرانے میں جیل کا عملہ مبینہ طور پر ملوث ہوسکتا ہے کیونکہ دونوں قیدی جیل میں سرونٹ کوارٹر میں پناہ لینے کے بعد جیل سے فرار ہوئے۔

واضح رہے کہ کالعدم لشکر جھنگوی اورکالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے 2 خطرناک دہشت گرد شیخ محمد ممتازعرف فرعون عرف شیرخان عرف شہزاد عرف بھائی ولد شیخ محمد مسلم عرف شیخ محمد اسلم عرف محمد سلیم اور محمد احمد خان عرف منا ولد محمد شفیع منگل کی شب فرارہوگئے تھے، فراردہشت گردوں کو چند سال قبل سی ٹی ڈی پولیس نے قتل، اقدام قتل، بھتہ خوری اور بم دھماکے میں ملوث ہونے پر گرفتارکیا تھا۔

کراچی سینٹرل جیل کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جیل عملے کی ملی بھگت سے کالعدم لشکر جھنگوی اورکالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے 2خطرناک دہشت گرد شیخ محمد ممتازعرف فرعون عرف شیرخان عرف شہزاد عرف بھائی ولد شیخ محمد مسلم عرف شیخ محمد اسلم عرف محمد سلیم اور محمد احمد خان عرف منا ولد محمد شفیع منگل کی شب فرار ہوگئے، فرار دہشت گردوں کو چند سال قبل سی ٹی ڈی پولیس نے قتل، اقدام قتل، بھتہ خوری اور بم دھماکے میں ملوث ہونے پرگرفتارکیا تھا۔

دوسری جانب واقعے کی اطلاعات ملنے کے بعد رات گئے آئی جی خانہ جات نصرت منگن،ڈی آئی جی جیل خانہ جات اشرف علی نظامانی و دیگر افسران جیل پہنچ گئے،آئی جی جیل خانہ جات نصرت منگن سپرنٹنڈنٹ جیل غلام مرتضیٰ شیخ پر برہم ہوگئے، واقعے کی رپورٹ طلب کرلی، ڈی آئی جی جیل خانہ جات اشرف علی نظامانی کے مطابق مذکورہ ملزمان سینٹرل جیل میں قائم جوڈیشل کمپلیکس کی ایک کھڑکی سے لوہے کی سلاخیں کاٹ کر فرار ہوئے۔

ذرائع نے بتایا کہ فرار ہونے والے دونوں قیدیوںکوحیرت انگیز طور پر واچ ٹاور پر تعینات ایف سی اورجیل پولیس کے اہلکاروں نے بھی فرار ہوتے نہیںدیکھا ،ذرائع کا کہنا تھا کہ جیل میں 10سے 12 فٹ لمبی دیواریں ہیں،ان دیواروں سے پھلانگ کر فرار ہونا آسان نہیں ہے،شبہ ہے کہ فرار دہشت گرد جیل سے بھاگنے کے بعد جیل کے احاطے میں قائم جیل کوارٹرکی جانب سے فرارہوئے اور ان قیدیوں کو فرارکرانے میں جیل کا عملہ مبینہ طورپر ملوث ہے، جیل کے افسران کو یہ بھی شبہ ہے کہ جیل عملے نے قیدیوں سے مبینہ طور پرلاکھوں روپے کی ڈیل کرکے فرارکرایا ، تاہم اس حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: