ڈرون حملہ کی مذمت:‌ شیری مزاری کی آرمی چیف پر چڑھائی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری نے ہنگو میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے کی ’مزمت‘ کرنے پر پاک فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

خیال رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں امریکی ڈرون نے خیبرپختونخوا کے علاقے ہنگو کے اسپین تل کے علاقے میں ایک گھر پر میزائل حملہ کیا تھا جس میں حقانی نیٹ ورک کے کمانڈر ابوبکر اور ان کے ساتھی کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

شیریں مزاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ’ہم پاک فوج کے سربراہ کی جانب سے ہنگو میں ہونے والے ڈرون حملے کو نتائج کے برعکس قرار دینے کو قبول نہیں کرتے‘۔

انھوں نے آرمی چیف کی ڈرون حملے کے بعد ‘تین روز کی خاموشی’ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، تاہم واضح رہے کہ آرمی چیف کا بیان ڈرون حملے کے دو روز بعد سامنے آیا تھا۔

شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنی فوج سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ تمام قسم کے حملوں سے ہماری زمین کا دفاع کرے گی، جس میں ہماری زمین پر ہونے والے ڈرون حملے بھی شامل ہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اقدام کو الفاظ کی ضرورت نہیں‘۔

پی پی پی رہنما نے ٹوئٹ میں کہا کہ ’آرمی چیف سے کارروائی کی توقع تھی، نہ کہ حملے کے تین روز بعد صرف مزمت کی‘۔

اس سے قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ‘ڈرون حملوں جیسی یک طرفہ کارروائیاں نتائج کے برخلاف اور پاکستان کی جانب سے جاری معلومات کے تبادلے اور تعاون کی روح کے منافی ہیں’۔

شمالی وزیرستان سے ملحق اورکزئی ایجنسی میں اسپین ٹل کے علاقے میں ہونے والے ڈرون حملے پر بات کرتے ہوئے جنرل قمر باجوہ کا کہنا تھا کہ ‘اگر قابل عمل خفیہ معلومات کا تبادلہ کیا جائے تو افواج پاکستان مؤثر اقدامات کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں’۔

خیال رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق 13 جون کو اورکزئی ایجنسی میں امریکی ڈرون نے ایک کمپاؤنڈ پر دو میزائل فائر کرکے دو مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا تھا، جن میں حقانی نیٹ ورک کا کمانڈر ابوبکر بھی شامل تھا۔

واضح رہے کہ افغانستان سے عسکریت پسندوں کی دراندازی روکنے کے لیے پاک فوج کی جانب سے مہمند اور باجوڑ کے قبائلی علاقوں میں سرحد پر باڑھ لگانے کا آغاز کیا جاچکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: