یہ معصوم لڑکی عصمت جونیجو کی لاش ہے جو سوالات کررہی ہے کہ اُس کا کیا قصور تھا۔ کراچی کے سرکاری اسپتال (کورنگی سندھ گورنمنٹ) میں دانت کے درد کی تکلیف میں آنے والی معصوم بچی کو درندہ صفت داکٹر اور ملازمین نے ریپ کر کے زہر کا انجیکس لگا کر قتل کردیا۔ یہ پوسٹ شیئر کرنے کا مقصد محض ایک ہی ہے کہ اس کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور مقتولہ کو انکصاف مل سکے۔
کراچی میں غلط انجیکشن سے مرنے والی لڑکی سے زیادتی و قتل کا انکشاف
کراچی: کورنگی کے سندھ گورنمنٹ اسپتال میں دانت میں درد کے علاج کے لیے آنے والی 25 سالہ عصمت کے ساتھ زیادتی و قتل کا انکشاف ہوا۔ دوروز قبل کراچی کے علاقے کورنگی کے سندھ گورنمنٹ اسپتال میں دانت میں درد کے علاج کے لیے آنے والی 25 سالہ لڑکی عصمت غلط انجیکشن لگنے سے جاں بحق ہوگئی تھی تاہم اب انکشاف ہوا ہے کہ عصمت غلط انجیکشن سے نہیں بلکہ اسے زیادتی کے بعد زہر کا انجیکشن دے کر قتل کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اسپتال کا گرفتار کمپاؤنڈر شاہ زیب عصمت کے ساتھ زیادتی اور قتل میں ملوث ہے، جب کہ لڑکی کو انجیکشن لگانے والا ڈاکٹر ایاز فرار ہے جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ عوامی کالونی پولیس نے ڈاکٹر اور کمپاؤنڈر کے خلاف لڑکی کی ہلاکت کا مقدمہ درج کیا ہے، تاہم مقدمے میں ابھی زیادتی اور قتل کی دفعات شامل نہیں ہیں۔
https://zaraye.com/karachi-26-year-old-girl-patient/
دوسری جانب ذرائع نیوز کو اطلاع موصول ہوئی کہ پولیس کے بااثر افسران اور اہلکاروں نے متاثرہ خاندان پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا تاکہ وہ مقدمے سے دستبردار ہوجائیں۔
واضح رہے کہ ابراہیم حیدری کی رہائشی عصمت کو دانت کے درد کی شکایت پر اسپتال لایا گیا تھا جہاں ڈاکٹر ایاز نے کمپاؤنڈر شاہ زیب کو انجیکشن لکھ کردیا جیسے ہی وہ انجیکشن لڑکی کو لگایا گیا تو اچانک لڑکی طبیعت خراب ہونے کے بعد انتقال کرگئی۔
اسپتال کے عملے اور ڈاکٹر کی مبینہ غفلت سے جاں بحق ہونے والی لڑکی کی ہلاکت کا مقدمہ عوامہ کالونی پولیس نے درج کرنے کے بعداسپتال کے 2 ٹیکنیشن کو حراست میں لے کراور متوفیہ اور کمپاؤنڈر کا موبائل فون و دیگر اشیا تحویل میں لے کر تفتیش شروع کردی تھی۔
