کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو کراچی میں تحریک انصاف کے 3 حلقوں کے امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روک دیا۔
عدالت نے جن امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روکا ہے ان میں این اے 237 سے جمیل احمد، این اے 249 سے فیصل واوڈااور این اے 250 سے عطااللہ شامل ہیں۔
فیصل واوڈا کی کامیابی پر ان کے مدمقابل ن لیگی امیدوار اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے ووٹوں کی گنتی کے عمل پر اعتراض کیا تھا اور سندھ ہائی کورٹ میں دوبارہ گنتی کی درخواست دائر کی تھی۔
این اے 237 پر سندھ ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی امیدوار جمیل احمد کی کامیابی کا نوٹی فکیشن روکنے کا حکم دیا ،ان کے خلاف پی پی امیدوار عبدالحکیم بلوچ نے درخواست دائر کی تھی ۔
این اے 250سے تحریک انصاف کے امیدوار عطا اللہ کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے کا حکم سندھ ہائیکورٹ نے دیا۔اس حلقےسے ایم کیو ایم کے فیاض قائم خانی نے درخواست دائر کی تھی ۔
عدالت نے تینوں درخواستوں پر سیکریٹری الیکشن کمیشن اور دیگر فریقین سے 9 اور 10اگست کو جواب طلب کرلیا ۔
عدالت نے الیکشن کمیشن کو حکم جاری کیا ہے کہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک کسی بھی امیدوار کو فاتح قرار نہ دیا جائے اور نہ ہی اُسے حلف اٹھانے کی اجازت دی جائے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کے نوٹی فکیشن جاری کردیے، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو دو حلقوں سے مشروط نوٹی فکیشن جاری کیا گیا جبکہ عمران خان کے تین اور پرویز خٹک کے ایک ایک حلقے کے نتائج روک دیے گئے۔
