کراچی : کے الیکٹرک کے 7 سالہ سرمایہ کاری منصوبے پر نیپرا کی ہونے والی پراسرار سماعت کے خلاف سول سوسائٹی کے نمائندوں محفوظ النبی خان، محمد حلیم خان غوری، اشفاق لودھی، محفوظ احمد، محمد ولی الرحمن عثمانی و دیگر نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک آئینی پٹیشن دائر کی ہے پٹیشن کو 1161/2023 نمبر دیا گیا۔
جسٹس عقیل عباسی کی سربراہی میں ڈویژن بینچ پٹیشن کی سماعت کل کرے گا پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ نیپرا کی کے الیکٹرک کے 2024-2030 کے دوران سرمایہ کاری پلان کی سماعت کو پراسرار طور پر کراچی کے بجائے اسلام آباد میں رکھا گیا ہے۔
حالانکہ منصوبے کا ہدف کراچی ہے اور صارفین کا تعلق بھی کراچی ہی سے ہے۔
درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نیپرا کی اسلام آباد میں سماعت کا مقصد صارفین کے الیکٹرک کو سماعت میں شرکت سے محروم کرنا ہے دوسری طرف نیپرا اور کے الیکٹرک کی ویب سائٹ پر مذکورہ منصوبے کی تفصیل بھی موجود نہیں ہے جو کھلی اور واضح بدنیتی ہے۔
پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ کراچی میں بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کو کسی ایک کمپنی کے بجائے نیلام عام کے ذریعے دیگر کمپنیوں کو بھی مسابقت میں لایا جائے یا پھر سرکاری تحویل میں واپس دیا جائے۔
