مرتضی چورنگی تا یونس چورنگی لانڈھی ( 8000روڈ ) کی تعمیر کا کام کافی مدتوں کی تاخیر کے بعد بلآخر شروع ہوگیا
اس روڈ کی لاگت ایک ارب بیس کروڑ روپے کے لگھ بھگ ہے جس میں سے نصف رقم لانڈھی انڈسٹریل ٹریڈرز ایسوسی ایشن اور نصف رقم وفاقی حکومت فراہم کرے گی جبکہ صوبائی و شہری حکومت کی نگرانی میں اس روڈ کی تعمیر کا کام ہوگا
اس روڈ کی تعمیر کے لئے سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے طویل عرصہ تک جدوجہد کی , مظاہرے, دھرنے, احتجاجی کیمپ اس روڈ کی تعمیر کا سبب بنے
اس روڈ سے بلامبالغہ دن میں ہزاروں گاڑیوں کا گزر ہوتا ہے, جس میں مال بردار گاڑیوں کے ساتھ فیکٹریوں میں کام کرنے والے ہزاروں محنت کش بھی اس گزرگاہ سے اپنے گھروں کو آتے جاتے تھے
اس روڈ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ایک برساتی نالہ بھی بنایا جائے گا جو مانسہرہ کالونی سے ہوتا ہوا ملیر ندی میں گرے گا
یقیناً یہ خستہ حال روڈ جو علاقہ کے عوام کے لئے باعث اذیت تھا اس کی تعمیر سے عوام الناس کو آمدورفت میں آسانیاں فراہم ہونگی سڑک کنارے دکانوں میں موجود دکاندار جن کا کاروبار اس روڈ کی تباہی سے متاثر ہوا تھا ان دکانداروں کا کاروبار بھی اس روڈ کی تعمیر سے بہتر ہوجائے گا
صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ میگا پروجیکٹ کہیں سندھ حکومت کی کرپشن کی بیماری کی وجہ سے ناقص تعمیرات کی بناء پر تباہ نہ ہوجائے اس کا جائزہ لینے کی بہرحال وفاق اور لاٹی کو ضرورت ہوگی
جے آئی پبلک ایڈ کمیٹی ضلع ملیر
وائس آف ملیر ( آرگنائزیشن)
