حافظ سعید نظر بندی، چوہدری نثار ذمہ واری سے ٹرمپ کو جواب دیں

ٹرمپ کے نامزد ہوتے ہی پالیسی تبدیل ہوئی، ارے نہ بھائی نہ۔ ہم پاکستانی خودار قوم ہیں اور کسی سے مانگنے سے زیادہ بھوکے مرنے کو ترجیح دیں گے۔ آپ لوگ یہ کیوں سمجھ رہے ہیں کہ حافظ سعید یا اُن کی جماعت پر پابندی ٹرمپ کی ایماں پر لگائی گئی۔

ارے وہ تو ٹھہرا کافر عیسائی آدمی، ہم اپنے مسلمان بھائی اور امت کے امیر کو کیوں نظر بند کریں وہ بھی اُس بھنگی کے حکم پر، نہ ہم تو نہیں کریں گے اور نہ ہی اسلام کے خلاف کوئی سازش قبول کریں گے۔

ہم اب ٹرمپ کو منہ توڑ جواب دیں گے کیونکہ ہمارے ساتھ چین اور روس جیسے ممالک ہیں، ٹرمپ ہمارے سی پیک سے خوفزدہ ہےکیونکہ یہ سرمایہ کاری چین کررہا ہے جس کے باعث ہمیں یہ فائدہ ہوگا کہ سیکیورٹی کا بجٹ بڑھے گا جس سے دفاعی صلاحیتیں  بہت زیادہ بڑھیں گی اور پھر ایک وقت آئے گا جب ہم امریکی امداد اُسے کے منہ پر دے ماریں گےاور رہی بات ایف 16 طیاروں کی تو اُس کے توڑ میں ہم نے ابابیل میزائل تیار کیا ہے جو بیک وقت 8 سے زائد شہروں کو تباہ کردے گا۔

ٹرمپ نے اپنا منہ دیکھا ہے کہ وہ ہمارے محب وطن حافظ سعید پر الزام لگا کر اُن پر پابندی لگانا چاہتا ہے، مانے نہ مانیں یہ پابندی کشمیر کی آزادی سے خوفزدہ ہونے کی علامت ہے کیونکہ جماعت الدعوۃ سمیت دیگر مجاہدین نے 2017 میں کشمیر کی آزاد کروانے کا اعلان کیا تھا۔

مکار امریکا خودغرض ٹرمپ کو کشمیری بہنوں اور بھائیوں کی چیخ و پکار سنائی نہیں دیتی اور وہ ہم ہی محسوس کرتے ہیں مگر وادی کے واقعے سنانے والے اور لڑکوں کے دلوں میں ایمان تازہ کر کے نوجوانوں کو کشمیر بھیجنے والے امیر المجاہدین کو نظر بند کردیا، نہ ہمیں یہ نظربندی اور جماعت کے خلاف کریک ڈاؤن قبول نہیں کیونکہ یہ جمہوری پارٹی نہیں بلکہ فلاحی ادارہ ہے۔

چوہدری صاحب کو چاہیے کہ وہ ٹرمپ اور امریکی اداروں پر یہ بات واضح کردیں کہ کشمیر کی آزادی کے لیے بنائی جانے والی لشکر طیبہ سے جماعت الدعوۃ بننے والی جماعت اب صرف فلاحی ادارے کا کام فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے نام سے کررہی ہے اور اب اُن کا کشمیر جہاد سے کوئی تعلق نہیں، ہاں مگر اُن کے کچھ لوگ جو کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کررہے ہیں مگر جماعت اُن سے مکمل اظہار لاتعلقی کرچکی ہے۔

فلاح انسانیت فاؤنڈیشن ہر موقع پر پیش پیش ہوتی ہے، وہ مقامات جہاں پر کوئی دوسرا فلاحی ادارہ نہیں پہنچ سکتا فلاح انسانیت کے رضا کار اپنے فرائض انجام دے رہے ہوتے ہیں، چترال کے پہاڑوں پر ہونے والا طیارہ حادثہ ہو، بلوچستان اور سندھ کے سیلاب زندگان کی مدد پاک فوج کے شانہ بشانہ فلاح انسانیت کے رضا کار خدمت کرتے نظر آتے ہیں۔

صرف یہی نہیں بلکہ شام ، عراق و افغانستان راشن پہنچانا ہو یا کشمیر میں بھارتی فوج کی پیلٹ گن سے متاثر ہونے والے افراد کو طبی امداد فراہم کرنی ہو جماعت الدعوۃ کسی کا انتظار نہیں کرتی بلکہ اُس نیک مقصد میں آگے آگے بڑھ کر اپنی خدمات خود انجام دیتی ہے۔

وزیرداخلہ کو چاہیے کہ وہ امریکا کو یاد دلائیں کہ روس کو افغانستان میں شکست دینے والے مجاہدین آج عالمی دنیا کے لیے کیسے دہشت گرد ہوگئے؟ جبکہ وہ اب جہاد سے دور ہوکر امت کی اصلاح کرنے کے لیے فلاحی کاموں میں مشغول ہیں۔ چوہدری نثار صاحب ہماری اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی عالمی طاقتوں کے آگے تبدیل نہیں ہونی چاہیے ۔

چوہدری صاحب جس طرح آپ نے گزشتہ دنوں پوری ذمہ واری کے ساتھ برطانوی حکومت سے منی لانڈرنگ کیس کی تفصیلات طلب کیں اور اُسے دوبارہ کھولنے کی گزارش کی بالکل اسی طرح آپ ٹرمپ حکومت کو  مکمل ذمہ واری کے ساتھ خط لکھ کر اس تمام تر صورت حال سے آگاہ کریں تاکہ ایک محب وطن پاکستانی مجاہد بلاجواز نظر بندی سے بچ سکے۔

تحریر: محمد عمیر دبیر

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں