کریم ، اوبر سروس پرملک بھر میں پابندی کا فیصلہ

لاہور / کراچی: صوبائی حکومتوں نے عوام کو ٹرانسپورٹ فراہم کرنے والی دو کمپنیوں اوبر اور کریم پر پابندی کا فیصلہ کرلیا، پنجاب حکومت نے اسے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بند کردیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں تیزی سے عوام میں شہرت پانے والی کار سروس کریم اور اوبر پر صوبائی حکومتوں نے پابندی کا فیصلہ کرتے ہوئے سروس کو مکمل بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

حکومت پنجاب نے کریم سروس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کمپنیاں حکومت کو  کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتیں لہذا ایسی تمام کمپنیاں قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔

دوسری جانب سندھ حکومت نے کریم اور اوبر پر پابندی عائد کرتے ہوئے گاڑیاں سڑک پر لانے کے لیے فٹنس کی شرط لازمی قرار دے دی ہے۔ سیکریٹری ٹرانسپورٹ نے انتظامیہ کو خط تحریر کیا ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پرائیوٹ گاڑیوں کو کاروباری مقاصد کے لیے کسی صورت استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

یاد رہے کریم اور اوبر کمپنیاں ملک بھر میں شہریوں کو گزشتہ 6 ماہ سے سروس فراہم کررہی ہیں اور ان کمپنیوں کی سروس دیگر ترقیاتی یافتہ ممالک میں بھی چل رہی ہے تاہم دبئی حکومت نے گزشتہ سال کریم اور اوبر کے خلاف کریک ڈاؤن بھی کیا تھا۔

اوبر یا کریم استعمال کرنے والے صارفین نے صوبائی حکومتوں کے اس اقدام کی مذمت کی ہے، ایک صارف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “حکومت نے سوچ لیا ہے کہ اب عوام اپنے پیسوں سے بھی سہولیات حاصل نہیں کرسکتے”۔

ان دونوں کمپنیوں کی معیاری سروس ہے اور کرائے کے حساب سے بھی یہ صارفین کو سستی پڑتی ہیں، کراچی اور لاہور میں اس سروس کے متعارف ہونے سے سرکاری سطح پر چلائی جانے والی بسیں اور ٹرانسپورٹ کی سواری میں عوام کی دلچسپی بہت کم ہوگئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں