حافظ سعید کی نظربندی یا بلاگرز کی گمشدگی میں فوج ملوث نہیں، آئی ایس پی آر

راولپنڈی: پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ  بلاگرز کی گمشدگی کا معاملہ ہو یا پھر حافظ سعید کی نظر بندی چند عناصر حساس معاملات پر قیاس آرائیاں کرکے ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔

راولپنڈی میں پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے جان دی، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر کارروائی کی ہے، فاٹا میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا اور قبائلی علاقوں میں زیادہ تردہشت گرد مارے گئے ہیں یا افغانستان میں روپوش ہوگئے، ٹی ٹی پی کی قیادت بھی افغانستان میں ہے، دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں ہم امن و امان کے بہتر ماحول میں سانس لے رہے ہیں، امن کی فضا وقت کے ساتھ بہتر ہورہی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں میں تمام اداروں کا حصہ ہے۔

حافظ سعید کی نظر بندی کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نظربندی کا فیصلہ ریاستی اداروں کی پالیسی کی روشنی میں کیا گیا تمام ادارے اس بات پر متفق تھے کیونکہ ہم دنیا کو امن کا پیغام دینا چاہتے ہیں، بلاگرز کی گمشدگی کے پیچھے پاک فوج ملوث نہیں تھی مگر کچھ عناصر حساس معاملات میں تنقید کر کے ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے 84 فیصد شہری اپنے علاقوں میں واپس جاچکے ہیں ،کومبنگ آپریشنز جاری رہیں گے تاکہ بچے کچے دہشتگردوں کا صفایا کیا جاسکے، ہمیں افغانستان میں امن و امان کی صورت حال پر تشویش ہے اور ہماری خواہش ہے کہ افغانستان میں جلد امن قائم ہو تاکہ افغان مہاجرین واپس جاسکیں۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت ہمارا ہمسایہ ملک ہے، ہم بھارت سے تمام تصفیہ طلب معاملات کا حل چاہتے ہیں، جنگ مسائل کا حل نہیں، ہم کسی سے جنگ نہیں چاہتے، جنگ نہ کرنے کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، بھارت کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں