رپورٹ: وقاص بابر روزنامہ 92
کراچی: سندھ اسمبلی کے اکیانوے ارکان کے پاس 54 کروڑ روپے سے زائد کی ایک سوپینتیس گاڑیاں ہیں جبکہ 64 سے زائد ارکان کی ملکیت میں ایک بھی گاڑی نہیں ہیں۔
سندھ اسمبلی کے سات ارکان اسمبلی کے پاس موٹرسائیکلز بھی ہیں پی ٹی آئی کے سترہ ارکان کے پاس بیس سے زائد گاڑیاں اور مالیت ساڑھے سات کروڑ روپے سے زائد ہے۔
پیپلزپارٹی کے چھیانوے میں سے چوون ارکان کے پاس پینتیس کروڑ روپے سے زائد کی اٹھاسی گاڑیاں ہیں۔
تفصیلات کے مطابق نائنٹی ٹونیوزرپورٹنگ سیل کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق سندھ اسمبلی کے ایک سو پینسٹھ میں سے چونسٹھ ارکان کے زیر ملکیت کوئی گاڑی نہیں جبکہ اکیانوے ارکان سندھ اسمبلی چوون کروڑ روپے سے زائد کی گاڑیوں کے مالک ہیں۔
مہنگی اور بیش قیمت گاڑیوں میں سفر کرنیوالے سندھ کے تیرہ سابق وموجود وزرا کے زیر ملکیت کوئی گاڑی نہیں، ارکان سندھ اسمبلی کی الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی اثاثوں کی تفصیلات سے مرتب کی گئی رپورٹ کے مطابق سندھ کی وزیر صحت اور آصف علی زرداری کی ہمشیرہ ڈاکٹرعذرا فضل پیجوہو کی ملکیت میں کوئی گاڑی نہیں ہے۔
سندھ کے سابق وزیر بلدیات جام خان شورو،فیاض بٹ، امداد پتافی، گیان چندایسرانی، شاہد تھہیم،غلام شاہ جیلانی کے پاس بھی گاڑی نہیں ہے۔
کابینہ کے موجودہ اراکین ناصر شاہ،اسماعیل راہو،مکیش کمار چاولہ،شہلارضا،شبیربجارانی نے بھی اپنے اثاثوں میں گاڑی کی ملکیت کا ذکر نہیں کیا۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے ستانوے ارکان میں سے انتالیس جیالے ارکان کے پاس گاڑی نہیں جبکہ چوون ارکان سندھ اسمبلی کے پاس اٹھاسی سے زائد گاڑیاں ہیں جن کی مالیت پینتیس کروڑ روپے سے زائد ہے۔
تحریک لبیک پاکستان کے تین ارکان سندھ اسمبلی میں سے ایک رکن مفتی قاسم فخری بیس ہزار روپے مالیت کی موٹر سائیکل کے مالک جبکہ یونس سومرو کے پاس ایک اور ثروت فاطمہ کی ملیکت میں کوئی گاڑی نہیں ہے اسی طرح ایم ایم اے کے واحد رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید کے پاس بھی کوئی گاڑی نہیں۔
ایم کیوایم کے آٹھ ارکان سندھ اسمبلی کے پاس کوئی گاڑی نہیں جبکہ پارلیمانی لیڈر کنورنوید جمیل پینتیس لاکھ روپے مالیت کی گاڑیوں کے مالک ہیں ایم کیوایم کے ارکان اسمبلی راشد خلجی،عبدالباسط صدیقی اور عدیل شہزاد کے پاس صرف موٹرسائیکل ہیں۔
ایم کیوایم کے ارکان اسمبلی کے پاس تیرہ گاڑیاں اور مالیت ایک کروڑچونتیس لاکھ روپے سے زائد ہے، وفاق میں حکمراں پاکستان تحریک انصاف کے سندھ اسمبلی میں ارکان کی تعداد انتیس جبکہ بارہ ارکان کے پاس کوئی گاڑی نہیں۔
پی ٹی آئی کے سولہ ارکان کے پاس سولہ سے زائد ارکان گاڑیوں کے مالک ہیں جن کی مالیت سات کروڑ باون لاکھ روپے سے زائد ہے پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ سمیت تین خواتین ارکان کی ملکیت میں بھی کوئی گاڑی نہیں جبکہ پیر پگارا کی زیر قیادت بننے والے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے تین ارکان کے پاس گاڑی نہیں جن میں سابق وزیراعظم غلام مصطفی جتوئی کے صاحبزادے عارف مصطفی جتوئی،نند کمار اور عبدالرزاق راہموں شامل ہیں۔
جی ڈی اے کے دیگر ارکان کے پاس گیارہ سے زائد گاڑیاں اور انکی مجموعی مالیت چار کروڑ روپے سے زائد ہے سندھ اسمبلی کی بااثر خاتون رہنما فریال تالپور کے پاس ایک کروڑ سے زائد مالیت کی تین گاڑیاں ہیں۔
