”بٹ“ جدید برقی اسطلاح ہے جو کہ ہندسوں کے مواد کو محفوظ کرنے کی اکائی کے طور پر رائج ہے ۔ اسطلاح کو بطور اسم استعمال کرنا تو صدیوں پرانا ڈھنگ ہے جسے اختیار کرتے ہوئے جدید برقی دنیا میں ایک سکّہ جاری کیا گیا جس کو ”بٹ کوائین“کا نام دیا گیا ۔ کہتے ہیں کہ کسی جاپانی نے اپنی ماں کے گھر کے تح خانے میں اپنے ذاتی کمپیوٹر کےذریعے اس سکّے کا اجرا کیا تھا لیکن یہ صفید جھوٹ سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
آج ساری دنیا جانتی ہے کہ دنیا کا مالیاتی نظام سہونی یہودیوں کے ہاتھ میں ہے اور کیا ایسا ممکن ہے کہ جن قوتوں نے ساری دنیا کو اپنے مالیاتی شکنجے میں جکڑ رکھا ہو وہ اس دجالی نظام سے کسی کو آزاد ہونے دیں گے؟
بنیادی تور پر اس سکّے کا اجرا تل ابیب کے ایک خفیہ عسکری ادارے نے کیا۔ اب آپ سوچیں گے کہ یہ سرا سر ایک کانسپرسی تھیوری ہے اور یہ ایک حقیقت بھی ہے لیکن ثبوت کے طور پر میرے پاس مضبوط تاریخی دلائل ہیں، جن کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔
آج یہ راز تو سب پہ افشاں ہو چکا ہے کہ ۹/۱۱سہونی دماغ کی ایجاد تھی اور موساد وسی آئی اے کی مشترکہ کاوش تھی، جس کے نتیجے میں دنیا کے دو امیر ترین ممالک باراہِ راست امریکی تسلط میں آگئے پہلا افغانستان اور دوسرا عراق ۔ اب آپ کہیں گے چلو عراق کے پاس تو تیل کی دولت ہے لیکن افغانستان کہاں سے امیر ترین ملکوں کی فہرست میں آگیا؟
لیکن میں اپنے موقف پر قائم ہوں اور اس وقت افغانستان کو دنیا کا سب سے زیادہ امیر ترین ملک سمجھتا ہو ۔ یقیناً آپ کہیں گے دیوانگی کی حد ہے لیکن ذرا سوچیں تو سہی کہ آج دنیا میں سب سے زیادہ بکنے والی چیز ہے کیا ؟ آپ کہیں گے تیل یا اسلحہ لیکن در حقیقت اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ طلب منشیات کی ہے جس کی تجارت میں افغانستان کا ۸۰ فیصد حصہ ہے ، اب بتائیں کونسا ملک سب سے زیادہ امیر ہوا؟
ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت دنیا کی آبادی ۷ ارب افراد سے تجاوز کر چکی ہے جن میں سے تقریباً ۲۵ فیصد منشیات کی لت میں مبتلا ہیں ۔ گھر سے باہر کیا دیکھیں ہمارے تو وزیر اعظم کے بارے میں منشیات کے استعمال کی افواہیں زبان زدِ عام ہیں ۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کے طالبان کے افغانستان سے امریکہ بہادر کو آخر کیا تکلیف لاحق ہو گئی تھی؟ اوسامہ تو صرف ایک بہانہ تھا اصل مسئلہ تو افیم کی کاشت رک جانے کا تھا جس کی وجہ سے اربوں ڈالر کی تجارت کو روزانہ کی بنیاد پر نقسان پہنچ رہا تھا۔ نتیجہتاً امریکی افواج کو حملہ کر کے سارے کھیت چھڑوانے پڑے۔ اب جب کے امریکہ بہادر باقلم خود اس تجارت کا بیڑا اُٹھانے جا رہا تھا جس کی وجہ سے دولت کا ایک انبار لگنے والا تھا تو ضروری تھا کہ ایک ایسا سکّہ بھی ایجاد کیا جائے جس کی بدولت اس تجارت کو وسعی تر بنایا جاسکے اور عام آدمی سےرسائی آسان ترہوسکےنیز یہ کہ ڈالر کی فیس ویلیو بھی خراب نہ ہونے پائے۔ اگر آپ کے پاس بٹ کوائین ہوں تو آپ با آسانی ڈارک ویب پر دنیا کی کوئی بھی غیر قانونی چیز خرید سکتے ہیں جس میں افغانی منشیات سرِ فہرت ہے۔
