Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اردو غریب لوطن ... تحریر جہاں‌ تاب حسین | زرائع نیوز

اردو غریب لوطن … تحریر جہاں‌ تاب حسین

ہوا یوں کہ ۲۴مارچ کو والد صاحب نے کہا کہ ۲۶ تاریخ  کو حیدر آباد چلنا ہے مشاعرے میں (جب سے والد صاحب کی ایک آنکھ بجھی ہے وہ ہمیں ساتھ ہی رکھتے ہیں) ہم نے سوچا چلو کراچی سے باہر نکلنے کا موقع ملے گا۔

خیر ۲۶ کی شام وقتِ مقررہ پر ہم بتائے ہوئے مقام پر پہنچ گئے کچھ دیر میں ۳۵ سے ۴۰ خواتین و حضرات جمع ہو گئے اور جب گاڑی دیکھی تو لگا کہ اُس میں گنجائش کم ہے اصل میں وہ ایک کراچی میڈ روٹ پہ چلنے والی کوچ قسم کی گاڑی تھی جس میں آدھے گھنٹے سفر کرنا بھی محال ہوتا ہے اور اسی وقت احساس ہوا کہ استاد آج تو بُرا پھنسے ہیں کیوں کہ اُس گاڑی کی حالات دیکھ کر کہیں سے نہیں لگتا تھا کہ یہ حیدرآباد تک چلی جائے گی۔

خیر  گاڑی روانہ ہوئی اور ایک گھنٹہ چلنے کے بعد حسبِ امید سپر ہائی وے پہ رک گئی اور راستے میں وزیرستان ہوٹل پہ ڈیڑھ گھنٹہ گزارنا پڑا۔

خدا خدا کر کہ دوسری گاڑی آئی اور وہ بھی اُسی خاندان کی تھی یعنی رووٹ پہ چلنے والی کوچ، بحمداللہ حیدرآباد آگیا اور دیال داس حال میں ہمیں رات کے کھانے کے لئے لے جایا گیا۔ وہاں پتہ چلا کہ چونکہ ہم سب تاخیر سے پہنچے ہیں اس لئے کھانا ختم ہو گیا۔

خیر نصیب کا لکھا کون ٹال سکتا ہے، بہرکیف مشاعرہ شروع ہوا اور شعرا کرام اپنا کلام سناتے رہے، چونکہ مشاعرہ حیدرآباد آرٹس کونسل کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا اس لئے سامعین کی تعداد کافی زیادہ تھی۔ اس لیے دورانِ مشاعرہ دادوتحسین کا سلسلہ زورو شور سے جاری رہا مگر اس دوران ایک بات کا شددت سے احساس ہو رہا تھا کہ حیدرآباد کے مچھر بہت ہی باذوق اور خوش ذائقہ ہیں کیوں کہ  مچھروں نے جس جانفشانی سے منظوم و رباعیات کا سلسلہ جاری کیا ہوا تھا اُس نے سارے پنڈال کو اش اش اور آہ آہ کی صداؤں سے جھنجھوڑ رکھا تھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگ کم ہوتے گئے اور مچھر بڑھتے گئے یہاں تک کہ اذانِ فجر ہو گئی اور فوٹو سیشن کے بعد ہمیں ناشتے کے لئے جانا تھا ۔ ہم سب کو اُسی گاڑی میں ٹھونس دیا گیا اور گاڑی چل پڑی تھوڑی دور پہنچنے پر احساس ہوا کہ جس گاڑی کے پیچھے ہم ناشتہ گاہ کی طرف جا رہے تھے اُس کا کہیں پتہ نہیں تھا اور جو لوگ اُس گاڑی میں سوار تھے اُن میں سے کوئی فون کال نہیں اُٹھا رہا تھا۔

بہرحال اتفاقِ رائے سے فیصلہ ہوا کہ اپنے پیسوں سے ہی ناشتہ کیا جائے اور راستہ میں ایک ہوٹل پہ گاڑی روکی گئی۔ ناشتہ کے دوران ایک اور دھچکا لگا کہ جب ہمیں پتہ چلا کہ ہر شاعر کو تین تین ہزار روپے دے کر ٹال دیا گیا تھا اور انڈیا سے آئے ہوئے ہرشاعر کو پینتیس پینتیس ہزارروپے دیئے گئے تھے۔

اس وقت شددت سے احساس ہوا کہ پاکستان جس ملک کی سرکاری زبان اردو ہے اُس ملک میں  اردو زبان اور اردو کے شاعر و ادیب کس قدر کم وقت ہیں اسی لئے اردو زبان غریب ہی نہیں غریب الوطن بھی ہے۔