فیس بک کی جانب سے مبینہ طور پر آئی ایس پی آر اور میجر جنرل آصف غفور سے منسلک اکاؤنٹس دو روز قبل نشاندہی کے بعد بند کیے گئے جس میں سماجی رابطے کی سب سے بڑی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے مکمل چھان بین اور تحقیق کے بعد ہی اقدامات کیے۔
فیس بک کی جانب سے جعلی آڈیز اور پیجز کے خلاف آپریشن سے مسلم لیگ ن سمیت دو سیاسی جماعتوں کے پیجز بھی بند ہوئے جبکہ آئی پی آر کا نام لے کر چلنے والے مختلف اکاؤنٹس کو بند کیا گیا۔
بی بی سی اردو کی تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ اکاؤنٹس کو نفرت انگیز پوسٹیں کرنے کی وجہ سے بند نہیں کیا بلکہ وہ ایک مخصوص قسم کے نظریے کو فروغ کررہے تھے جیسے آصف غفور کی تعریف کے حوالے سے کمنٹس میں ایک ہی پیغام، ملالہ کے خلاف پروپیگنڈا ودیگر شامل ہیں۔
دو روز خاموشی کے بعد پاک فوج سے سوشل میڈیا پر عقیدت رکھنے والے صارفین نے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ iamispr# چلایا گیا جس پر سیکڑوں کی تعداد میں صارفین نے ٹویٹ کیے اور خود کو پاک فوج کا کارکن بتایا۔
اکثر صارفین کا کہنا تھا کہ بھارت نے سرحدی، معاشی شکست کے بعد فیس بک کے ساتھ مل کر آئی ایس پی آر اور پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈا کیا جس کے تحت مذکورہ اکاؤنٹس بند کیے گئے۔
ہیش ٹیگ کے ساتھ پاک فوج اور بالخصوص ڈی جی آئی ایس پی آر کی تعریفیں کی گئیں، صارفین نے بتایا کہ میجر جنرل آصف غفور نے ذہانت اور مہارت کے ساتھ شعبہ تعلقاتِ عامہ اور سوشل میڈیا کو گرفت میں رکھا۔
