ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں نامزد ملزم خالد شمیم کی اہلیہ کو یقین ہے کہ اُن کے خاوند کی جلد رہائی ہوجائے گی۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس فیصلہ کُن موڑ پر آچکا ہے، 16 ستمبر 2010 کو لندن میں اپنی رہائش گاہ کے باہر قتل ہونے والے ڈاکٹر عمران فاروق کا کیس اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہوگیا۔
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے ساڑھے تین سال بعد کیس سے متعلق شہادتیں مکمل کرلیں جبکہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بھی ملزمان کا بیان قلم بند کرنے کا فیصلہ کیا۔
ایف آئی اے نے گزشتہ سماعت پر عدالت میں اعتراف کیا تھا کہ انہیں برطانیہ سے مزید شواہد نہیں مل سکیں، اسکے علاوہ جتنی بھی تحقیقات تھیں مکمل کرلی گئیں۔
ایف آئی اے کی جانب سے ملزمان کو دس اپریل تک سوالنامہ دیا جائے گا جس کے تحت مقدمے میں نامزد ملزمان خالد شمیم، محسن علی اور معظم علی دفع 342 کے تحت اپنا بیان قلم بند کروائیں گے۔
https://zaraye.com/muzzam-ali-wife-sadia-muzzam-statment/
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے سماعت 10 اپریل تک ملتوی کردی تھی، کل ہونے والی سماعت پر اہم پیشرفت کا بھی امکان ظاہر کیا جارہاہے۔
عمران فاروق قتل کیس میں نامزد خالد شمیم کی اہلیہ بینا خالد کو یقین ہے کہ اُن کے خاوند کی جلد رہائی ہوجائے گی۔
بینا خالد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایم کیو ایم لندن کے سابق رہنما محمد انور اور طارق میر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’خالد شمیم کی رہائی جلد متوقع ہے اگر اب کوئی گڑھ بڑھ ہوئی تو اس کا ذمہ دار ان دونوں رہنماؤں کو ہی سمجھوں گی‘۔

انہوں نے لندن میں جائیداد کے تنازع پر بھی محمد انور کے خلاف دیگر ٹویٹس کیے۔
قبل ازیں دو روز قبل کیس میں نامزد معظم علی کی اہلیہ سعدیہ معظم نے بھی انکشاف کیا تھا کہ کیس کی سماعت کے دوران اُن پر مخالفت میں بیان دینے پر دباؤ ڈالا گیا تھا۔
https://zaraye.com/mqm-former-leader-thereat-altaf-hussain/
