کراچی میں ہونے والی چائنا کٹنگ کے دو اہم ملزمان کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ناقابلِ تردید شواہد کی بنیاد پر گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا۔
ذرائع کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق نیب اور دیگر تفتیشی ادارے اس نتیجے پر پہنچے کہ چائنا کٹنگ میں کے ڈی اے ادارے کے افسران بھی ملوث تھے جنہوں نے غیر قانونی آبادکاری کو جائز قرار دیا اور اس کا این او سی جاری کیا۔
قومی احتساب بیورو کی ٹیم نے کے ڈی اے کے دفتر سے حاصل ہونے والے ریکارڈ کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جس میں اہم شواہد حاصل کیے گئے جبکہ یہ بات بھی سامنے آئی کہ کے ڈی اے کے افسر براہ راست اس میں ملوث ہیں۔
https://zaraye.com/karachi-china-cutting/
نیب نے گزشتہ روز کارروائی کرتے ہوئے کے ڈی اے کے ڈائریکٹر جمیل بلوچ کو حراست میں لے کر تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ جمیل بلوچ پر الزام ہے کہ انہوں نے ملیر ندی کی 60 ایکڑ قبضہ کی گئی زمین پر ناجائز تعمیرات کی اجازت دی، اس کا ریکارڈ غائب ہے، کے ڈی اے کے ریکارڈ سے جعلی این او سی بھی غائب ہے۔ ملزم کو چائنا کٹنگ کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب قومی احتساب بیورو نے ایم کیو ایم رہنما محمد انور کے قریبی ساتھی چنوں ماموں کے دست راز اور حیدرآباد کے سابقہ زونل انچار فاروق کے خلاف بھی تحقیقات کا آغاز کردیا۔ ملزم سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر تعینات رہ چکے ہیں۔
https://zaraye.com/punjab-colony-china-cutting/
