عمران خان کے اوپننگ بیٹسمین اور اینگرو سے ملازمت چھوڑ کر سیاست میں آنے والے سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہونے اور سیاست کو خیرباد کہنے پر غور شروع کر دیا۔
ذرائع کے مطابق سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر پارٹی کی اندرونی سیاست سے دلبرداشتہ ہوگئے اس لیے انہوں نے اپنے قریبی دوستوں سے بات چیت میں سیاست چھوڑنے کی خواہش کا اظہار کی۔
قریبی دوست سے گفتگو میں اُن کا کہنا تھا کہ ’’میں اسمبلی اور سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر کے زیادہ وقت فیملی کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں، بھائی بہن اور اہیلیہ بھی سیاست سے نالاں ہیں‘‘۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کا بھروسہ اٹھ جانے اور اندرونی سیاست کی بھینٹ چڑھنے کی وجہ سے اسد عمر شدید دلبرداشتہ ہیں، البتہ ایک اطلاع یہ بھی آئی کہ اُن کے بھائی محمد زبیر نے سابق وزیرخزانہ کو مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔
https://zaraye.com/asad-umar-truns-down-ministry-and-cabinet/
اسد عمر کے قریبی ساتھیوں نے انہیں اسمبلی رکنیت نہ چھوڑنے کا مشورہ دیا اور کہاکہ وہ بے شک سیاست میں متحرک کردار ادا نہ کریں اور نہ پی ٹی آئی قیادت سے رابطہ کریں مگر رکنیت کو جاری رکھیں۔
ایک نجی اخبار کا دعویٰ ہے کہ اسد عمر کو شاہ محمود قریشی اور نعیم الحق کی ایماں پر وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا، جبکہ فواد چوہدری کو بھی نعیم الحق پر تنقید کرنا مہنگا پڑ گیا۔خیال رہے کہ جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان نے اسد عمر سے وزیر خزانہ کے عہدے سے استعفیٰ لیا۔
https://zaraye.com/why-pm-reshuffle-cabinet-in-federal/
جس کے بعد انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران ایسے اشارے دیے تھے جس سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ پارٹی کی اندرونی سیاست سے عاجز آ چکے ہیں۔ مقامی میڈیا میں یہ خبریں بھی زیر گردش ہیں کہ وفاقی کابینہ کے اجلاسوں کے دوران اسد عمر پر کئی وزرا کی جانب سے تنقید کی جاتی رہی ہے۔
