لاہور: پنجاب بار کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف پیش کی گئی 6 نکاتی قرارداد منظور کرلی جس میں اُن کے فیض آباد دھرنے پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں ملک دشمن قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
پنجاب بار کونسل کا اجلاس گزشتہ روز ہوا جس میں جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف قرار داد پیش کی گئی۔ قرار اداد کے متن میں مطالبہ کیا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے ہٹایا جائے کیونکہ انہوں نے فیض آباد دھرنے کے فیصلے میں پاک فوج سمیت دیگر ملکی سالمیت والے اداروں کو نشانہ بنایا۔
اجلاس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ’’فائز عیسیٰ کا فیض آباد دھرنا ملک دشمن عناصر کے بیانیے کی تصدیق ہے، اُن کے فیصلے سے دشمن ممالک کو تقویت ملی اور یہ بات ملک کے لیے بالکل اچھی نہیں ہے‘‘۔

قرارداد میں آرٹیکل 209(پانچ) کے تحت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا جبکہ متن میں یہ بھی کہا گیا کہ ’ عدلیہ کےارکان کو آئین کے اختیار میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے، متن میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے بھی بغیر ثبوت عدلیہ اور سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنایا تھا، جس پر سپریم جوڈیشل کونسل نے اُن کو عہدے سے بالکل درست برطرف کیا۔ قرارداد میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی حمایت میں کراچی بار ایسوسی ایشن کے چلینج کو بھی ناقابل فہم قرار دیا گیا جبکہ قاضی فائز عیسی کے خلاف بھی فیض آباد دھرنا کیس فیصلے کے بعد جوڈیشل کونسل طرز کی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
یاد رہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے اسلام آباد کےعلاقے فیض آباد میں ہونے والے دھرنے کا فیصلہ جاری کیا تھا جس کے خلاف حکومتی جماعت سمیت ایم کیو ایم، شیخ رشید احمد نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی درخواستیں دائر کیں ہیں۔
