کراچی: سندھ پولیس کا کارنامہ، 6 سال سے لاپتہ اپنے پولیس کانسٹبل کو ہی تلاش کرنے میں ناکام رہی، سندھ ہائیکورٹ نے اہلخانہ کی درخواست پر محکمہ پولیس کو 1 ہفتہ کی مہلت دیتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
عدالت عالیہ نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو کچھ معلوم ہی نہیں؟ خود افسران بڑی بڑی ویگو میں پھرتے ہیں اور یہ لوگ دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔
جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو 6 سال سے لاپتہ پولیس کانسٹیبل کے اہلخانہ کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
اہلخانہ نے بتایا کہ احمد خان کو تلاش بھی نہیں کیا گیا اور نوکری سے بھی نکال لیا۔ عدالت نے وکیل سرکار اور پولیس حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ سب کو جیل بھجنے کا وقت آگیا ہے۔
جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ آپ اپنے ہی ڈپارٹمنٹ کے لاپتہ کاسٹبل کو 6 سال سے تلاش نہیں کرسکے۔ شرمندہ ہونے کی بجائے آپ نے 27 سال سروس پوری ہونے والے کو نوکری سے بھی نکال دیا۔کون لاپتہ کانسٹبل کو ڈھونڈ کر لائے گا؟ سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ ہم نے اہلخانہ سے جواب مانگا لیکن جواب نہین ملا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ کو کچھ معلوم ہی نہیں؟ خود افسران بڑی بڑی ویگو میں پھرتے ہیں اور یہ لوگ دھکے کھانے پر مجبور ہیں اوپر سے آپ نے نوکری سے نکال کر ذریعہ آمدن بھی چھین لیا۔ عدالت نے 6 سالہ بچے ابوبکر کے حوالے سے ریمارکس دیئے کہ بچے کو عدالت نا لیکر آئیں اسے اسکول بھیجیں۔عدالت نے پولیس ڈپارٹمنٹ کو 1 ہفتہ کی مہلت دیتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ اطمنان بخش جواب نا ملنے کی صورت میں سخت آرڈر کیا جائے گا۔ دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ میر احمد خان سندھ سیکٹرئٹ میں سیکیوریٹی کے فرائض دیتا تھا۔ 2012 سے سندھ پولیس میں تعینات تھا۔2015 میں لاپتہ ہوا، عدالت میں لاپتہ فرد کی درخواست لگا چکے ہیں۔ پولیس نے ڈھونڈنے کی بجائے نوکری سے ہی نکلا ہوا ہے۔ 2015 سے تنخواہ بھی نہیں دی گئی۔
