کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے کراچی ائیرپورٹ کے اطراف کچرے کا ڈھیراور کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیرات سے متعلق درخواست پر آئندہ سماعت پر حکام سے تفصیلی جواب طلب کرلیا۔
ہائیکورٹ میں کراچی ائیرپورٹ کے اطراف کچرے کا ڈھیراور کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیرات سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔
سول ایوی ایشن کے وکیل نے موقف دیا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی مانیٹرنگ کرتی ہے اور ایئرپورٹ کے اطراف صفائی کا عمل جاری رہتا ہے۔ سول ایوی ایشن بااختیار ادارہ ہے اور قانون کے مطابق کام کرتا ہے۔
جسٹس یوسف علی سعید نے ریمارکس دیئے کہ یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے کچرے کی وجہ سے پرندے آجاتے ہیں۔ سول ایوی ایشن کے وکیل نے موقف دیا کہ ہمیں جہاں نشاندہی کی جاۓ گی کچرا صاف کردیں گے۔
عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو تو یہ کام خود کرنا چاہئے نشاندہی کی کیا ضرورت ہے؟ ادارے جو کام بروقت کرسکتے ہیں کیوں نہیں کرتے؟ عدالت نے آئندہ سماعت پر پی آئی اے، سول ایوی ایشن اور دیگر سے تفصیلی جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے درخواستگزار کی غیر حاضری کے باعث سماعت 21 مارچ تک ملتوی کردی۔
دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ کراچی ائرپورٹ کے اطراف میں 15 کلومیٹر تک عمارتیں تعمیر نہیں کی جاسکتیں۔
ائیرپورٹ کے اطراف میں کچرے انبار لگنے حادثات رونما ہوتے ہیں۔ کثیر المنزلہ عمارتوں کی عمارتوں کی روک تھام اور کچرا صاف کرنے کا فوری حکم دیا جائے۔
