وانا: ایس پی پشاور طاہر داوڑ کے قتل کا معمہ حل ہوگیا، انہیں کس نے اسلام آباد سے کس بات پر اغوا کیا اور افغانستان لے جا کر کس نے قتل کیا سارا بھید کھل گیا۔
تفصیلات کے مطابق اکتوبر 2018 میں ایس پی پشاور طاہر داوڑ کو اسلام آباد سے اغوا کیا گیا تھا جس کے بعد اُن کی لاش افغانستان سے برآمد ہوئی تھی اور اس پر بدترین تشدد کے نشانات بھی تھے۔ پولیس افسر کو اسلام آباد سے اغوا کیا گیا تو ریاست انکاری رہی اور سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کو جھوٹ بے بنیاد قرار دیا گیا۔
گمشدگی کے ایک ہفتے بعد اُن کے چھوٹے بھائی نے مسلسل عدم رابطے کے بعد اسلام آباد میں پرچہ کٹوایا، کئی روز تک لاپتہ رہنے والے ایس پی کی بازیابی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے تھے۔
اب پیشرفت یہ سامنے آئی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان نے ایس ایس پی کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیرستان کے علاقے وانا میں پمفلٹ تقسیم کیے اور دوسرے پولیس افسران کو تنبیہ کی کہ وہ سرکاری معاملات سے دور ہٹ جائیں۔
ٹی ٹی پی کے اردو میں تقسیم ہونے والے پمفلٹ میں کہا گیا کہ پولیس افسران کو کچھ روز کے لیے وانا میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی، انہوں نے حکم کی خلاف ورزی کی، ہم نے ایک پولیس اہلکار کو اسلام آباد سے اغوا کیا کیوں کہ اس نے ہمارے وارننگ کو مذاق میں لیا تھا‘‘۔
خط میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایس پی طاہر داوڑ کو متعدد مرتبہ خبردار کیا گیا تھا لیکن انہوں نے مذکورہ انتباہ کو سنجیدہ نہیں لیا، جس کے بعد انہیں اسلام آباد سے اغوا کر کے زمینی راستے سے افغانستان لے جایا گیا اور انہیں قتل کیا گیا۔
https://zaraye.com/tahir-dawar-murder-jit/
علاوہ ازیں جنوبی وزیرستان میں ایک بار پھر کالعدم تنظیم متحرک ہوگئی جس نے پمفلٹ تقسیم کر کے لوگوں میں ایک بار پھر خوف و ہراس پھیلا گیا۔ خط میں پولیس اور لیوز حکام کو خبردار کیا گیا ہےکہ وہ تین روز میں قبائلی علاقے خالی کردیں بصورت دیگر اُن کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
پمفلٹ میں مقامی افراد کو سرکاری حکام سے قطع تعلق کی ہداتی بھی کی گئی، مذکورہ پرچے اُس وقت تقسیم ہوئے کہ جب قبائلی علاقے میں دو روز بعد عمران خان کو دورہ کر کے عوامی اجتماعات سے خطاب اور مختلف منصوبوں کا اعلان کرنا ہے۔
اتوار کے روز جنوبی وزیرستان کے ضلعی ہیڈ کوارٹر وانا میں تقسیم ہونے والے پمفلٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ‘پولیس کو لازمی طور پر وانا اور محسود قبائل کے علاقے چھوڑ دینے چاہیے بصورت دیگر وہ (ٹی ٹی پی) ان کے خلاف طاقت کا استعمال کرے گی’۔ اردو زبان میں تحریر شدہ پمفلٹ میں مزید بتایا گیا کہ ٹی ٹی پی نے وانا میں پولیس کے زیر استعمال گاڑیوں کی نشاندہی بھی کرلی ہے۔
واضح رہے کہ فاٹا کو صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم کیے جانے کے بعد صوبے کی پولیس نے 7 قبائلی اضلاع میں کام کا آغاز کردیا تھا اور صوبے کے دیگر اضلاع کی طرح لیویز اور خاصہ دار فورسز کے کمانڈرز کو ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔
پمفلٹ میں کہا گیا کہ پولیس افسران کو کچھ روز کے لیے وانا میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی، پمفلٹ میں بتایا گیا کہ ‘ہم نے ایک پولیس اہلکار کو اسلام آباد سے اغوا کیا کیوں کہ اس نے ہمارے انتباہ کو نظر انداز کیا تھا’۔
اس میں مزید بتایا گیا کہ طاہر داوڑ کو متعدد مرتبہ خبردار کیا گیا تھا لیکن انہوں نے مذکورہ انتباہ کو سنجیدہ نہیں لیا۔ علاوہ ازیں ٹی ٹی پی کے پمفلٹس میں وزیراعظم کے دورہ وانا پر سخت تحفطات کا اظہار کیا گیا، واضح رہے کہ انہوں نے بدھ (24 اپریل) کو مقامی فٹ بال گراؤنڈ میں عوامی تقریب سے خطاب کرنا ہے۔
پمفلٹس میں قبائلی عمائدین اور دیگر مقامی افراد کو خبردار کیا گیا کہ وہ وزیراعظم کی تقریب اور تحریک انصاف کے جلسے میں شرکت نہ کریں بصورت دیگر اُن کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی، پمفلٹ میں وانا کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ثقافتی فیسٹیول کے انعقاد کی مذمت کی گئی اور انتظامیہ، لیویز اور خاصہ دار کو علاقے میں بے حیائی کو فروغ دینے کا قصور وار قرار دیا گیا۔
پمفلٹ میں مقامی صحافیوں اور پولیس ورکرز کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ باز رہیں ورنہ ٹی ٹی پی اُن کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائے گی۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر اجمل خان وزیر نے ان دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ پمفلٹ کے ذریعے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی گئی، وزیراعظم شیڈول کے مطابق اپنا دورہ کریں گے۔
یہ خبر ڈان اخبار میں 23 اپریل کو شائع ہوئی
