اسلام آباد میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسد عمر نے مستعفیٰ ہونے کے بعد پہلی بار شرکت کی، ایوان میں آمد پر حکومتی اراکین نے ڈائس بجا کر اُن کا شاندار استقبال کیا۔
ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسد عمر نے انکشاف کیا کہ مہنگائی کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوا اور ٹیکس وصولی کے لیے مقرر کیے جانے والے اہداف بھی پورے نہیں ہوئے۔
اُن کا کہنا تھا کہ وزارتِ خزانہ کی تبدیلی پر نااہلی کی باتیں کرنے والے پی پی کے چیئرمین اپنے دورِ حکومت کو دیکھیں کیونکہ اُن کے دور میں چار وزرائے خزانہ تبدیل ہوئے، اگر ہماری نااہل حکومت ہے تو آپ کی نااہل ترین حکومت تھی۔ اسد عمر نے بلاول کی اردو میں کی جانے والی تقریر کو بھی سراہا اور بتایا کہ انہوں نے کبھی بھی پی پی چیئرمین کو غدار نہیں کہا۔
مزید پڑھیں:اسد عمر کا سیاست سے کنارہ کشی اور اسمبلی رکنیت چھوڑنے پر غور
پی پی اور مسلم لیگ ن کو بھی اسد عمر نے آڑے ہاتھوں لیا اور دھواں دھار انداز میں شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بلاول نے الزام لگایا کہ تحریک انصاف نے معاشی قتل کردیا ہے، موجودہ حکومت نااہل اور ناکام حکومت ہے۔ بلاول بھٹو کے الزامات پر سوچا کہ ذراحقائق سےپردہ اُٹھاوں۔
انہوں نے زرداری دور اور موجودہ حکومت میں موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ پی پی کے دور میں مہنگائی کی شرح 12.3 تھی اور پیپلز پارٹی کے دور میں پاکستان کے قومی قرضوں میں 135 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ زرداری صاحب کے دور حکومت میں افراط زر 12.3 فیصد تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کو کسی نے نہیں بتایا کہ ان کی حکومت میں معیشت کی ترقی کی رفتار2.8 فیصد تھی۔ پیپلز پارٹی کے 5 سال میں ایف بی آر کے اہداف میں سالانہ 5 فیصد کمی رہی۔
