Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
مذہبی سیاسی جماعت کا پولیو ویکسین کے خلاف پروپیگنڈہ، والدین خوفزدہ، 2 پولیس اہلکار شہید | زرائع نیوز

مذہبی سیاسی جماعت کا پولیو ویکسین کے خلاف پروپیگنڈہ، والدین خوفزدہ، 2 پولیس اہلکار شہید

پشاور: خیبرپختونخواہ کے ضلع میں پولیو ویکسین کے حوالے سے پھیلائی جانے والی سیاسی جماعت کی سازش کے بعد دوسرے روز بھی نامعلوم افراد نے پولیس اہلکار کو موت کی گھاٹ اتار دیا۔

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخواہ حکومت کے وزیر شوکت یوسفزئی نے بتایا تھا کہ پولیو مہم کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے میں مذہبی اسلامی جماعت کے رہنماؤں کا ہاتھ ہے، اُن کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی کے کارکنان اور رہنماؤں نے پولیو ویسکین کے خلاف مہم چلائی۔

پولیو مہم پر حملوں میں اضافہ ہوگیا جبکہ والدین بھی اپنے بچوں کو افواہ کے بعد پلانے میں احتیاط کررہے ہیں۔ بونیر پولیس حکام کے مطابق پولیو ٹیم تور وارسک کے دور دراز علاقے میں گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلانے میں مصروف تھی کہ اچانک اُن پر نامعلوم افراد نے فائرنگ شروع کردی۔

نامعلوم شخص نے سب سے پہلے پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور اہلکار کو نشانہ بنایا جسے متعدد گولیاں لگیں اور وہ اسپتال پپہنچنے سے قبل ہی دم توڑ گیا۔ فائرنگ کرنے والے افراد جائے وقوعہ سے باآسانی فرار ہوگئے۔ حکام کے مطابق پولیس نے حملہ آوروں کو گرفتار کرنے کے لیے علاقے میں تلاشی کا عمل شروع کردیا علاوہ ازیں یہ بھی تحقیقات جاری ہیں کہ اہلکار کو آیا پولیو کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا یا پھر کوئی ذاتی رنجش تھی۔ خیال رہے کہ ایک روز قبل خیبر پختونخوا کے علاقے بنوں میں نامعلوم افراد نے پولیو مہم کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

افواہوں سے پولیو مہم کو شدید نقصان، حکومتی تصدیق

حکومتی ترجمان اور صحت کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ پشاور میں پھیلنے والی افواہ سے پولیو مہم کو شدید نقصان پہنچا، پنجاب بھر میں 13000 سے زائد والدین نے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے سے انکار کیا۔ جن میں سے پانچ ہزار کے والدین کو قائل کر کے قطرے پلا دیے گئے۔

سلمان غنی کوآرڈینیٹرایمرجنسی آپریشن سینٹرز برائے انسداد پولیو پہلے دو روز میں ایک کروڑ 30 لاکھ بچوں کو قطرے پلائے گئے، زیادہ تر والدین نے پشاور میں افواہ کی وجہ سے بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلائے، راولپنڈی میں سب سے زیادہ 5600 والدین قطرے پینے سے انکار کیا، جبکہ لاہور اور اٹک میں بلترتیب 600 اور 500 والدین بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے سے انکاری ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ رہ جانے والے بچوں کو آنے والے دنوں میں پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جائیں گے، والدین اپنے بچوں کو بنا فکر کے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں، ملک بھر میں پولیو وائرس کی موجودگی کی وجہ سے ہر بچہ خطرے میں ہے، بار بار پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے سے بچے کو مکمل تحفظ فراہم ہوتا ہے اور اس خو پلانے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔