Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
جامعہ کراچی: دو اساتذہ پر جنسی ہراسانی کے الزامات، اصل حقیقت سامنے آگئی | زرائع نیوز

جامعہ کراچی: دو اساتذہ پر جنسی ہراسانی کے الزامات، اصل حقیقت سامنے آگئی

کراچی یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغِ عامہ کے حوالے سے خبریں زیرگردش ہیں کہ وہاں کے دو اساتذہ اسامہ شفیق اور نعمان انصاری طالبات کو ہراساں کرتے اور انہیں نازیبا پیغامات ارسال کرتے ہیں۔

جامعہ کراچی کے ترجمان سے جب اس حوالے سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ کے پاس کسی بھی طالبا کی تحریری درخواست موصول نہیں ہوئی، میڈیا پر شائع ہونے والی خبریں اُس وقت تک من گھڑت ہیں جب تک کوئی باضابطہ درخواست نہیں دیتا، اُس کے بعد ہی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ترجمان جامعہ کراچی نے آگاہ کیا کہ ہراسگی کے ماضی میں کچھ واقعات پیش آچکے جس کے بعد وہاں باقاعدہ سینئر اساتذہ پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ہیں جنہوں نے سحر انصاری کے کیس کی بھی تفتیش کی تھی۔

شعبہ ابلاغِ عامہ کے حوالے سے پھیلنے والی ہراسگی کی خبروں میں کس حد تک صداقت ہے اس حوالے سے ذرائع نیوز نے ماس کمیونیکشن کے ایک طالب علم سے رابطہ کیا، بوجہ اُس کا نام ظاہر نہیں کیا جارہا کیونکہ وہ ابھی زیر تعلیم ہے اور  اُس کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایک اور اہم بات بتانی بھی ضروری ہے کہ ماس کمیونیکشن کے طالب علم جس نے ہمیں تمام معلومات فراہم کیں اُن کی ہم نے دیگر ذرائع سے بھی تصدیق کرائی جس کے بعد اسے آپ تک پہنچانا بہت ضروری تھا۔ حالیہ واقعے میں تین کردار ہیں جن میں دو ٹیچر اسامہ شفیق اور نعمان انصاری جبکہ ایک طالب علم طہماس علی خان شامل ہیں اور وہ تین لڑکیاں بھی جن کو فی الحال ظاہر نہیں کیا جارہا۔

ہمیں اطلاع ملی کہ طہماس علی خان تحریک انصاف کے یوتھ وننگ سے متحرک کارکن کے طور پر کردار ادا کرتے ہیں اور اُن کے پی ٹی آئی کراچی کی اعلیٰ سطح کی قیادت سے بنا تعطل رابطے ہیں۔ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اسامہ شفیق ایوننگ شفٹ کے انچارج اور جمعیت طلبا پاکستان کے سابق ناظم رہ چکے اور نعمان انصاری بھی سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

اسامہ شفیق اور نعمان انصاری علیحدہ علیحدہ مضامین پڑھاتے ہیں جنہوں نے سیمسٹر کے پیپرز میں طہماس علی خان کو خراب پرچہ دینے کی وجہ سے فیل کیا۔ طالب علم نے پرچہ کلیئر کروانے کے لیے گورنر سندھ عمران اسماعیل اور صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے بالخصوص نعمان انصاری کو بھی فون کروائے۔

ایک کلاس میں نعمان انصاری نے یہ انکشاف کیا کہ انہوں نے ہر قسم کا دباؤ برداشت کیا مگر طہماس کا پرچہ کلیئر نہیں کیا اسی طرح کی صورتحال کا سامنا اسامہ شفیق کو بھی کرنا پڑا۔ ہمیں یہ اطلاع ملی کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس اورمیڈیا پر واٹس ایپ میسجز کے جو اسکرین شارٹس زیر گردش ہیں وہ تازہ نہیں بلکہ پرانے ہیں، دونوں ٹیچرز مبینہ طور پر ماضی میں اس طرح کی غلطیاں کرچکے ہیں جنہیں اب بنیاد بنا کر پرچے کلیئر کروانے کی کوشش کی جارہی ہے۔  ابھی بات میڈیا چینلز پر نہیں آئی تھی البتہ دونوں ٹیچرز کے خلاف طالب علم امت اخبار میں خبر لگوا کر آچکے تھے اور اساتذہ سمیت دیگر طالب علموں کو یہ واٹس ایپ و دیگر ذرائع سے ارسال کرچکے تھے۔ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی کا آشیرباد حاصل کرنے والے طہماس انصاری ایک روز قبل یعنی 2 مئی جمعرات کو جامعہ پہنچے تو اسامہ شفیق (ٹیچر) کو اُن کی آمد کی اطلاع ملی اور پھر معاملہ بہت حد تک بڑھ گیا وہاں کچھ بدمزگی بھی دیکھنے میں آئی۔

طہماس علی خان۔۔۔ فوٹو بشکریہ فیس بک

اسامہ شفیق نے جامعہ کراچی میں تعینات سیکیورٹی ادارے کے انچارج کو طلب کیا اور بتایا کہ طہماس کا ڈیپارٹمنٹ اور جامعہ میں داخلہ بند ہے جس کا ایک باقاعدہ نوٹی فکیشن بھی جاری ہوچکا ہے البتہ اہلکاروں نے کچھ نہیں کیا اور طالب علم ٹیچر سے بدمزگی کرتا رہا۔ ذرائع نمائندے کو طالب علم نے یہ بھی بتایا کہ معاملہ پرچے کلیئر ہونے کا ہے، جیسے ہی طہماس کو پاس کیا جائے گا معاملے بیٹھ جائے گا۔ انہوں نے ماضی میں اگر غلطی کی بھی تو اس کا خمیازہ بھی بھگتا البتہ طالب علم نے اپنی سیاسی وابستگی اور تعلقات کی بنیاد پر میڈیا چینلز تک رسائی حاصل کی اور ٹیچرز کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

جامعہ کراچی ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ

اس سارے معاملے میں اسامہ شفیق اور نعمان انصاری نے بالکل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور اُن کا دو ٹوک مؤقف ہے کہ صورتحال چاہیے جیسی بھی ہوجائے وہ طالب علم کو اُسی صورت پاس کریں گے جب وہ پرچے اچھے سے دے گا۔ اس ضمن میں جب دونوں ٹیچرز سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کسی بھی قسم کا جواب دینے سے انکار کیا اور مختصر یہ کہا کہ جب کمیٹی بنے گی تو وہ اُس کے سامنے پیش ہوکر تمام حقائق پیش کردیں گے۔ اس اسٹوری میں ہمارے ساتھ جب طالب علموں نے تعاون کیا ذرائع نیوز کی ٹیم اُن کی شکر گزار ہے۔