سیکیورٹی فورسز نے صورتحال پر قابو پالیا، تین دہشت گرد ہلاک، ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کرلی ، چار ملازمین اور پاک بحریہ کا ایک جوان شہید، حملہ آور کو بلوچ مسنگ پرسن قرار دینے کا ڈرامہ بھی فلاپ ہوگیا
بلوچستان کے علاقے گوادر میں واقع پرل کوانٹینٹل ہوٹل میں گزشتہ شام نامعلوم افراد داخل ہوئے جنہوں نے گھستے ہی راکٹ داغے، پولیس حکام کے مطابق انہوں نے 10 سے زائد دھماکوں کی آوازیں سنیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سیکورٹی فورسز نے پی سی گوادر میں کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا، تینوں دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔ آئی ایس پی آر کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران ہوٹل کے 4 ملازمین اور پاک بحریہ کا ایک جوان عباس شہید ہو ا۔
پی سی گوادر آپریشن میں پاک فوج کے 2 کیپٹن، پاک بحریہ کے 2 جوان، اور 2 ہوٹل ملازمین زخمی ہوئے، چین نے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کے کردار کو سراہا جبکہ بلوچ لبریشن آرمی نے حملے کی ذمہ داری قبول کی اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ کی۔
Another #BLA Terrorist or Missing Person who attacked PC Hotel in #Gwadar turns out to be on the Missing Persons list.
Where are Lifafa Journalists? Safi & Mir? pic.twitter.com/2jUz7B0bwd
— Pakistan Defence Command (@PDCMDOfficial) May 11, 2019
آئی ایس پی آر نے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی قیاس آرائیوں پر کان نہ دھرنے کی ہدایت کرتے ہوئے عوام کو باخبر رہنے کے لیے پاک فوج کے ذرائع ابلاغ سے جڑے رہنے کا مشورہ بھی دیا۔ سوشل میڈیا پر یہ بھی خبریں زیر گردش تھیں کہ دو حملہ آور مسنگ پرسنز تھے جن کے ناموں پر بلوچوں نے خوب سیاست چمکائی۔
رکن قومی اسمبلی اور حکومت کے اتحادری اختر مینگل نے بلوچ مسنگ پرسنز کے نام پر ہونے والے پروپیگنڈے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں جو حمل فتح بلوچ عسکریت پسند مارا گیا وہ کیچ مکران کا تھا جبکہ انہوں نے اسمبلی اور مقتدر حلقوں کو جو فہرست جمع کرائی اُس میں حمل خان نامی نوجوان کوہلو کا رہائشی ہے۔
— Akhtar Mengal (@sakhtarmengal) May 12, 2019
انہوں نے بتایا کہ حمل بلوچوں میں ایک قدیم اور تاریخی نام ہے، ہزاروں لوگوں کا یہ نام ہے اگر مسنگ پرسن حمل ایک ہی تھا اور اُسے حملے سے منسوب کیا جارہا ہے تو اس طرح گوادر کے منتخب رکن صوبائی اسمبلی کا نام بھی میر حمل کلمتی ہے تو کیا اُن کا نام بھی مسنگ پرسن یا دہشت گردوں کی فہرست میں جوڑا جائے گا۔
