لاہور میں داتا دربار پر ہونے والی دہشت گردی کا سہولت کار قرار دیا جانے والا ذیشان میڈیا کے سامنے آگیا اور اُس نے تفتیشی اداروں کی پول پٹی کھول کر رکھ دی۔
دہشت گردوں کا سہولت کار قرار دیا جانے والا ذیشان گوجروانولہ میں کریانہ اسٹور چلاکر اپنے گھر کا گزر بسر کرتا ہے، مہر ذیشان نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ میرا دہشتگردوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، ٹی وی پر میری تصویر چل رہی ہے جو زیادتی ہے۔ داتا دربار حاضری کیلئے گیا تھا، دھماکے کے وقت لوگ باہر بھاگے ان کے ساتھ باہر نکلا، مسافر وین میں بیٹھ کر واپس اپنے گھر گوجرانوالہ آیا تو معلوم ہوا مجھے سہولت کار بتایا جارہا ہے۔
دوسری جانب سی ٹی ڈی نے ایمن آباد کے رہائشی ذیشان کو حراست میں لے کر تفتیش کی اور اُسے بے گناہ قرار دیتے ہوئے رہا کردیا،ذرائع سی ٹی ڈی کے مطابق ملزم ذیشان پر حملہ آور کے سہولت کار ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا لیکن اس نے اپنے ویڈیو پیغام میں خود پر لگنے والے الزام کی تردید کی تھی تاہم ذیشان کا موبائل فون اور 2 سمز فرانزک کیلئے بھجوا دی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: داتا دربار کے باہر دھماکا، 5 اہلکاروں سمیت 8 جاں بحق، متعدد زخمی
خیال رہے کہ انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے داتا دربار خود کش حملے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ذیشان نامی شخص کو حراست میں لیا تھا۔ کہا جا رہا تھا کہ وہ خود کش حملے کا سہولت کار ہے۔ سی ٹی ڈی نے گوجرانولہ کے علاقے ایمن آباد میں ملزم ذیشان کو اس کے گھر سے حراست میں لیا۔ دوسری جانب گرفتاری سے پہلے ذیشان نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ اس کا دہشت گرد حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کی کریانے کی دکان ہے۔
مبینہ سہولت کار کا کہنا تھا کہ دھماکے کے وقت وہ دربار کے اندر موجود تھا اور ڈر کے باہر بھاگا، ویڈیو میں دیکھ کر اُسے حملہ آور کا سہولت کار سمجھا جا رہا ہے۔
