بلوچستان کے علاقے گوادر میں گزشتہ دنوں تین مسلح افراد نے حملہ کر کے متعدد افراد کو موت کے گھاٹ اتارا، پاک فوج سمیت تمام عسکری اداروں نے کئی گھنٹے لڑائی کے بعد ہوٹل کو کلیئر کرواتے ہوئے لاشیں اسپتال منتقل کی تھیں۔
ابھی بلوچستان کا حملہ جاری تھا کہ اسی دوران پاک ڈیفنس کے نام سے ٹویٹر آئی ڈی نے پروپیگنڈے کا آغاز کیا جو دیکھتے ہی دیکھتے تیزی کے ساتھ پھیل گیا اور اُس پر پیڈ اکاؤنٹس یا سرکاری ملازمین نے کام کیا۔
حملے میں ایک شخص مارا گیا تھا جس کا نام حمل خان تھا، سازشی عناصر کا کہنا تھا کہ یہ وہ حمل ہے جسے بلوچستان کی تنظیموں نے مسنگ ظاہر کیا، مسنگ کا مطلب عسکری اداروں نے اسے اٹھا لیا ہے۔
بلوچستان کے رکن قومی اسمبلی اور وزیراعظم کے اتحادی نے حمل کے نام پر تفصیلی وضاحت جاری کی تھی اور انہوں نے بتایا کہ حمل کو عام نام ہے اس نام کے بلوچوں میں بہت لوگ موجود ہیں، لاپتہ حمل کوہلو کا رہائشی تھا۔
Here comes another lie from so called Pakistani patriots which is been exposed once again https://t.co/8Ylsvm4Ac0
— Akhtar Mengal (@sakhtarmengal) May 15, 2019
ایک نوجوان کو حمل خان بنا کر اُس کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل کی جارہی تھی جس نے خاموشی توڑتے ہوئے بتایا کہ ڈیلی ٹائمز نے اُن کی تصویر کا غلط استعمال کرتے ہوئے انہیں دہشت گرد قرار دیا، انہوں نے ادارے سے معافی کا مطالبہ بھی کیا۔ اس معاملے پر ایک بار پھر اختر مینگل بھی میدان میں کودے اور انہوں نے دنیا کو حقیقت دکھائی۔
