اسلام آباد میں‌ 12 سالہ فرشتہ کے ساتھ زیادتی

اسلام آباد میں وحشی درندوں نے رمضان المبارک کا خیال نہ کیا اور 12 سالہ نابالغ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کر کے کچرے خانے میں اُس کی لاش پھینک دی۔

اطلاعات کے مطابق بچی کی شناخت فرشتہ کے نام سے ہوئی، جس کے والدین کا تعلق خیبرپختونخواہ سے بتایا جارہا ہے۔ والد کے مطابق ان کی بیٹی دو روز سے لاپتہ تھی انہوں نے پولیس کو مقدمہ درج کرانے کی اپیل کی مگر کسی نے تعاون نہیں کیا۔

والد کے مطابق پولیس حکام ٹال مٹول سے کام لیتے رہے اور انہوں نے 48 گھنٹوں تک ہر تھوڑی دیر بعد تھانے کے چکر لگوائے، جس وقت انہوں نے مقدممہ درج کرنے کا وقت دیا اُسی وقت بچی کی لاش کی اطلاع ملی۔

والد صدمے کی حالت میں بچی کی لاش لے کر اسپتال پہنچے جہاں انتظامیہ نے یہ کہتے ہوئے معذرت کرلی کہ ڈاکٹرز 6 بجے کے بعد ڈیوٹی پر نہیں ہوتے، پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے والد اور اہل خانہ کے ہمراہ اسپتال کے باہر احتجاج کیا۔

جبکہ سوشل میڈیا پر بھی JusticeForFarishta# کا ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ بنا، صارفین نے حکومت اور بالخصوص انسانی حقوق کی وزیر ڈاکٹر شیری مزاری سے نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔