اسلام آباد میں وحشی درندوں نے رمضان المبارک کا خیال نہ کیا اور 12 سالہ نابالغ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کر کے کچرے خانے میں اُس کی لاش پھینک دی۔
اطلاعات کے مطابق بچی کی شناخت فرشتہ کے نام سے ہوئی، جس کے والدین کا تعلق خیبرپختونخواہ سے بتایا جارہا ہے۔ والد کے مطابق ان کی بیٹی دو روز سے لاپتہ تھی انہوں نے پولیس کو مقدمہ درج کرانے کی اپیل کی مگر کسی نے تعاون نہیں کیا۔
والد کے مطابق پولیس حکام ٹال مٹول سے کام لیتے رہے اور انہوں نے 48 گھنٹوں تک ہر تھوڑی دیر بعد تھانے کے چکر لگوائے، جس وقت انہوں نے مقدممہ درج کرنے کا وقت دیا اُسی وقت بچی کی لاش کی اطلاع ملی۔
والد صدمے کی حالت میں بچی کی لاش لے کر اسپتال پہنچے جہاں انتظامیہ نے یہ کہتے ہوئے معذرت کرلی کہ ڈاکٹرز 6 بجے کے بعد ڈیوٹی پر نہیں ہوتے، پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے والد اور اہل خانہ کے ہمراہ اسپتال کے باہر احتجاج کیا۔
جبکہ سوشل میڈیا پر بھی JusticeForFarishta# کا ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ بنا، صارفین نے حکومت اور بالخصوص انسانی حقوق کی وزیر ڈاکٹر شیری مزاری سے نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔
#justiceForFarishta pic.twitter.com/IrC91Cgyu0
— Dr Atal Khan (@dratalkhan) May 21, 2019
As far as I know. FIR was registered on 19-05-19, Initial report of missing Farishta was registered on 16-05-19. Farishta got missing on 15-05-19 evening. Waiting for FIR copy #JusticeForFarishta https://t.co/36UtRtiMTm
— Nighat Dad (@nighatdad) May 21, 2019
اس معصوم نے اب کس کا کیا بگاڑا تھا۔۔
رمضان کے مہینہ میں بھی اگر لوگ اپنی نفس پر قابو نہیں کر سکتے تو انسان کہلانے کے لائق نہیں ھے ایسے لوگ۔۔#JusticeForFarishta pic.twitter.com/YtVj4M02wF— 🔥رضاکار🔥 (@_JDKHAN_007) May 21, 2019
ننھی مقتول فرشتہ مومند کے والد گل نبی پی ٹی ایم رہنما محسن داوڑ کو اپنی فریاد سنا رہے ہے- چار دن تک ایف ائی ار کو متعلقہ تھانہ نے تاخیر کا شکار بنایا جس کی وجہ سے آج ننھی فرشتہ ریادتی کا شکار ھوئی-@mjdawar@voadeewa@RehamKhan1@MalaliBashir#JusticeForFarishta pic.twitter.com/TKt5WnujAQ
— Nasir Zada (@NasirZada13) May 21, 2019
