چارسدہ میں کچہری گیٹ کے قریب دھماکے اور فائرنگ

چارسدہ: صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ کے علاقے تنگی میں کچہری گیٹ کے قریب 3 دھماکوں کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

دھماکوں کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں اور سیکیورٹی فورسز جائے وقوع کی جانب روانہ ہوگئیں۔

فی الوقت دھماکے کی نوعیت کے حوالے سے تعین نہیں کیا جاسکا۔

ڈان نیوز کے مطابق جائے وقوع کے قریب فائرنگ کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

دوسری جانب چارسدہ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

اس سے قبل بھی چارسدہ میں دہشت گردی کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں، مارچ 2016 میں بھی چارسدہ کی تحصیل شبقدر کے سیشن کورٹ میں خودکش حملے میں 22 پولیس اہلکاروں اور خاتون سمیت 17 افراد ہلاک اور خواتین و بچوں سمیت 300 زخمی ہوگئے تھے، جس کی ذمہ داری کالعدم گروپ جماعت الاحرار نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

واضح رہے کہ رواں ماہ پاکستان کے مختلف شہروں میں متعدد دھماکے ہوچکے ہیں، جن کے نتیجے میں اب تک 100 سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔

دہشت گردی کی نئی لہر

  • رواں ماہ 13 فروری کو لاہور کے مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے دہشت گردوں نے خودکش حملہ کیا، جس کے نتیجے میں پولیس افسران سمیت 13 افراد ہلاک اور 85 زخمی ہوئے، جس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروپ ‘جماعت الاحرار’ نے قبول کی تھی۔

  • 13 فروری کو ہی کوئٹہ میں سریاب روڈ میں واقع ایک پل پر نصب دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بناتے ہوئے بم ڈسپوزل اسکواڈ (بی ڈی ایس) کمانڈر سمیت 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

  • 15 فروری کو وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے فاٹا کی مہمند ایجنسی میں خودکش حملے کے نتیجے میں خاصہ دار فورس کے 3 اہلکاروں سمیت 5 افراد جاں بحق ہوگئے تھے، اس حملے کی ذمہ داری بھی’جماعت الاحرار’ نے قبول کی تھی۔

  • 15 فروری کو ہی پشاور میں ایک خود کش حملہ آور نے ججز کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں گاڑی کا ڈرائیور ہلاک ہوگیا تھا، جس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

  • 16 فروری کو صوبہ سندھ کے شہر سیہون میں درگاہ لعل شہباز قلندر کے احاطے میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں خواتین و بچوں سمیت 80 سے زائد افراد جاں بحق اور 200 سے زائد زخمی ہوئے، جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

  • خود کش دھماکوں کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے قافلوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے، جمعرات 16 فروری کو ہی بلوچستان کے علاقے آواران میں سڑک کنارے نصف دیسی ساختہ بم پھٹنے سے پاک فوج کے ایک کیپٹن سمیت 3 اہلکار جاں بحق ہوگئے تھے۔

    بشکریہ ڈان نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں