کراچی: شہر قائد کے مختلف علاقوں میں بلدیاتی نمائندوں اور میئرکراچی وسیم اختر کی عدم دلچسپی کے باعث شہری ذہنی اذیت و کرب میں مبتلا ہیں۔
عید کی آمد سے قبل شہر کے مختلف علاقوں اور بالخصوص سینٹرل میں صفائی ستھرائی کی صورتحال انتہائی ناقص ہے جبکہ شہر میں جگہ جگہ کچرے اور گندگی کے ڈھیر لگ گیے ہیں۔
ناظم آباد انڈر بائی پاس میں تین تین فٹ تک سیوریج کا پانی بھر ہوئے دو روز گزر گئے، پاک کالونی اور ناظم آباد میں بھی سڑکوں پر پانی بھرا ہوا ہے۔
گرومندر سے کریم آباد اور عائشہ منزل تک مین سڑک اور گلیوں میں کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جبکہ نیو کراچی، نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد سمیت سائٹ ایریا، اورنگی ٹاؤن کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔

بلدیاتی نمائندوں کے پاس عوام مسائل حل کرنے کا وقت نہیں کیونکہ وہ افطار کی دعوتوں میں مصروف ہیں، میئر کراچی سمیت تمام ہی بلدیاتی نمائندے اپنی اپنی جماعتوں کے لیے تو کام کرتے نظر آتے ہیں مگر شہریوں کے لیے کام کرنے میں اُن کے پاس بہانے اور حجتیں موجود ہوتی ہیں۔

کراچی کی اس سے زیادہ ابتر صورتحال کبھی نہیں دیکھی گئی، نالوں کی صفائی کے نام پر کروڑوں روپے لیے گئے مگر آج پھر گجر نالہ سمیت دیگر ندیوں کی حالت ابتر ہے، اگر شہر میں بارش ہوجاتی ہے تو سیلاب کا خدشہ ہے۔

سندھ حکومت شہر میں ہونے والی گندگی کا الزام بلدیاتی حکومت پر عائد کرتی ہے جبکہ میئر کراچی اور چیئرمینز کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس اختیار نہیں ہے، اب ایسی صورت میں شہری کہاں جائیں؟
