Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ایک تھی نہیں ایک ہے ایم کیو ایم ۔۔ تحریر کامران رضوی | زرائع نیوز

ایک تھی نہیں ایک ہے ایم کیو ایم ۔۔ تحریر کامران رضوی

 

۔۔۔۔۔ایک تھی نہیں ایک ہے ایم کیو ایم۔۔۔۔۔

کامران رضوی

عجیب اتفاق ہے کہ میں 11 جون 1978 APMSO لکھنا چاہا رہا تھا لکھا بھی خاصہ پھر ڈیلیٹ کر دیا کل مظہر عباس بھاٸ کو پڑھا ایک تھی ایم کیو ایم تو صرف مسکرا دیا کیونکہ میں اپنا لکھا ڈیلیٹ کر چکا تھا سوچوں کا مشترکہ ہونا بھی قدرت کا ہی کوٸ عمل ہے اللہ جانتا ہے بہت سے لوگوں سے بہت وقت میری سوچ ملتی ہے بس اللہ شیطان اور اسکے حواریوں سے محفوظ رکھے امین ۔ مظہر عباس نے ایم کیو ایم کی تاریخ پر ایک نظر ڈالی اور اس پر لکھتے ہوے بار بار اپنے پر بچاتے رہۓ سانحات کا بھی زکر کیا اور اپریشن کا بھی لیکن انکی شروعات کمال کی تھی کہ تالیاں نہ بجانے اور نعروں کا جواب نہ دینے پر نارضگی تھی اور اب تالیاں بجانے اور نعرے لگانے پر پابندی بہت خوبصورت اور کمال کا فقرہ ہے میرا تعلق اچانک ایم کیو ایم حقیقی سے ہوا تھا دسمبر 1991 یا جنوری 1992 میں ملک میں انقلاب لانے کے لیے میں اپنے ایک ساتھی بیٹوں کی جگہ معراج خٹک کے ساتھ کراچی سے بذریعہ ٹرین نکلا پورا سندھ پنجاب بلوچستان اور اسوقت کے سرحد تک گیا بہت امیدیں لیکر نکلا اور بہت مایوس لوٹا میں اسوقت سمجھ گیا تھا کہ یہاں میرے ملک میں انقلاب ناممکن ہے ہم لسانیت کے مکین ہیں جہاں جہاں گیا وہاں وہاں میرا مہاجر ہونا ایک مسلہ بنا ہوا تھا اور میں سمجھ گیا کہ انقلاب ناممکن ہے حالانکہ میں تو اسوقت بھی جید پاکستانی تھا اج بھی ہوں مگر 1992 سے میں مہاجر بھی ہوں ایک قوم بھی ہوں اردو میری زبان ہے

مہاجر قومی موومنٹ جرنل ضیا نے بناٸ جرنل مرزا اسلم بیگ نے ایسا کہا وہ نہیں بھی کہتے تو بھی میں یہ ہی لکھتا اور متحدہ قومی موومنٹ جرنل مرزا اسلم بیگ نے بنواٸ یہ ہمارے ملک کا خاصہ ہے سیاسی اور مزہبی جماعیتں جرنلز بنواتے ہیں اور پھر ان عوام کی مضبوط جماعتوں کو توڑتے بھی ہیں جرنل آصف نواز کا ایک بیان گواہی کے لیے کافی ہے کہ جب مسلم لیگ کے اتنے ٹکڑے ہیں تو ایم کیو ایم کے کیوں نہیں انہوں نے یہ بات کراچی کے ایک پروگرام میں کہی جب وہ ارمی چیف تھے پیپلز پارٹی کے ٹکڑے بھی ہوے اور عوامی نیشنل پارٹی بھی کٸی حصوں میں تقسیمب ہوٸ اور ان سب جماعتوں کو بتدریج جرنلز بناتے رہۓ جیسے پیپلز پارٹی 1967 میں بنی جرنل ایوب کی مہربانیوں سے وقت ایک سا نہیں رہتا جرنل ایوب کی بناٸ ہوٸ جماعت کا حشر جرنل ضیا کے ہاتوں ہوا پھانسی اور کوڑے اور سندھی بھاٸیوں کی ARD کی تحریک میں ہلاکتیں کون سیاسی کارکن بھولتا ہے وہی حال تو ایم کیو ایم کے ساتھ ہوا جب 1990 میں نکالے گٸۓ افراد کو ایم کیو ایم حقیقی کی بنیاد پر سپورٹ کیا اور ایم کیو ایم کے خلاف ایک ایسا اپریشن کا اغاز 19 جون 1992 میں کیا جسکا انجام مہاجر قاتل مہاجر مقتول پر ہوا میں ایم کیو ایم حقیقی میں تھا اور پروفیسر حسنین کاظمی ڈاکٹر انصاری سے رابطہ میں تھا اور شدید خواہش رکھتا تھا کہ یہ مہاجر قاتل اور مہاجر مقتول کا کھیل بند ہو کراچی اسلحہ فری ہو ملاقاتیں بھی کراواٸیں افاق بھاٸ سے کاظمی صاحب کی لیکن نتیجہ صفر رہا بلکہ مجھے یاد ہے کہ اجمل دہلوی صاحب بھی مجھے کہیں نہ کہیں سپورٹ کر رہۓ تھے بڑے سیاسی لوگ تھے شاٸد یہ سب حقیقی والے اور پھر انکی ٹوٹ پھوٹ بھی سب کے سامنے ہے اور اج افاق بھاٸ تنہا ہیں ایم کیو ایم تو اپنی جگہ برقرار رہٸ پھر 2010 میں عامر خان بھاٸ ایم کیو ایم میں آے اور میرے علاوہ پوری تنظیم جو افاق احمد سے باغی تھی وہ سب ایم کیو ایم میں آگٸۓ میرے نہ انے کی واحد وجہ وہ معصوم بچہ تھا جو ابھی جوان ہوا تھا بیٹا وہ اعظم خان بھاٸ کا تھا مگر پرورش عامر خان بھاٸ کی تھی میری اس سے دو ملاقاتیں ہوٸیں اس قدر معصوم اور شریف بچہ کے مجھے اس سے مل کے خاصی تسکین ملی لیکن وہ بچہ شہید کر دیا گیا اسکا جنازہ میں نے اٹھایا تھا جوان لڑکا کچھ تو طاقت رکھتا ہوگا مگر ایسا پھول سا جنازہ میں نے اب تک تو نہیں اٹھایا نام بھی لکھ سکتا ہوں سہولت کار کے بھی اور قاتل کے بھی لیکن میرا ایمان اللہ پر ہے وہ بچ کیسے سکتے ہیں خیر اب ایم کیو ایم تو اور مضبوط ہوگٸی تھی اس لیے ہم اپنا قلم اسطرف لے کے چلیں جہاں ایم کیو ایم مضبوط نہیں بلکہ مفاد پرست عناصر کے ہاتھوں چڑھ چکی تھی قیادت لندن میں تھی اور کراچی میں قتل و غارت اور 2002 کے بعد چاٸینا کٹنگ اور بھتہ جسکا علم قیادت کو بہت بعد میں ہوا مظہر عباس بھاٸ نے لکھ تو دیا کہ ” ایک تھی ایم کیو ایم “ لیکن حقاٸق بھی تو لکھیں اور یہ لکھیں کہ ”ایک ہے ایم کیو ایم “

سچ لکھنے میں کیا پریشانی کیا قتل و غارت کراچی میں نہیں ہوٸ کیا چاٸینا کٹنگ نہیں ہوٸ کیا کروڑوں روپے بھتہ نہیں مانگا گیا ہوا یہ سب کچھ ہوا زون سی کے انچارج قدیر بھاٸ ہوتے تھے 19 90 میں مجھے انکا نام قدیر ہی یاد ہے ایک شریف ادمی تھے انکا قتل سکندر مرزا لیبر ڈویژن کے الکرم پر میری انکی ملاقات ہوٸ تھی انکا قتل نام میں کنفیوژن ہو سکتی ہے لیکن قتل تو ہوے تھے اس سے بھی پہلے لیبر کونسلر نارتھ ناظم اباد بلاک جے کے یونس بھاٸ 1988 یا 89 میں قتل شہر چھوٹا ہے اور یہاں اس وقت تک صاحب علم لوگ ہوتے تھے میں راٸیس امروہی کا زکر نہیں کر رہا لیکن عظیم احمد طارق، ایس ایم طارق، رازق خان، بدر اقبال، عمران فاروق، خالد بن ولید، سٸنیٹر سید مصطفیٰ کمال، نشاط ملک اور اللہ جانے کتنوں کا نام لکھوں بربادی کے لیے یہ نام کافی ہیں پھر چاٸینا کٹنگ نے شہریوں کا جینا محال کر دیا سب باتیں چھوڑیں نیو کراچی کی ایم این اے کی سیٹ پر ایس ایم اسلم کو ریکارڈ ووٹ ملے ایک لاکھ اکتالس ہزار وہاں بڑے بڑے میدانوں پر چاٸینا کٹنگ جب کے وہاں اپکو ترقیاتی کام کروانے تھے اپ نے وہاں بھی تماشہ ہی کیا سانحہ بلدیہ کروڑوں کا بھتہ سینکڑوں جانیں جلا کر ماریں مجرم کون ایم کیو ایم 12 مٸ پچاس کے قریب ہلاکتیں ہیں جس میں ایم کیو ایم کے کارکنان بھی ہیں اسکا الزام ایم کیو ایم پر کیوں جب اپکو پتہ ہے کے کوٸ تو سچ لکھے گا تو سچ بولو کے جرنل پرویز مشرف کا اسلام اباد کے جلسے میں مُکہ لہرانا کراچی کی خونریزی کو اون کرنے کے لیے تھی اور یہ سب قتل چاٸینا کٹنگ اور بھتہ 1990 سے پہلے کے قتل اور 1992 کے بعد کے قتل حقیقی اور اج PSP سے پوچھیں ایم کیو ایم کا ان سب سے کوٸ تعلق نہیں قتل میں تو ہو سکتا ہے کے ایم کیو ایم کے کچھ کارکن ملوث ہوں باقی سب PSP کی قیادت کی ذمہ داری ہے

ایم کیو ایم کی غلطی کہہ لیں یا الطاف حسین صاحب کی 1978 سے2016 تک کا یارانہ تھا خلوص تھا محبت تھی مگر اپ لوگوں نے تو طے کیا ہوا ہے کہ 30 سال سے جو لوگ سیاست کے اعلیٰ مرتبہ پر فاٸز رہۓ اب وہ نہیں اور نۓ لوگ آٸیں نۓ میں عمران خان کو اپ لاۓ لیکن یہ یہودیوں کا داماد عوام کو قبول کہاں الطاف حسین کا فقط ایک مسلہ ضرور رہا کہ وہ مرتبوں کا لحاظ نہیں کر رہۓ زبان انکی بہت زیادہ عام ہو چکی ہے وہ بھی خود کو درست کریں ملک کے لیے انکے الفاظ گو کے جذباتیت لیے ہوے تھے آخری ملاقات جرنل پاشاہ سے انکی ہوٸ تھی 2011 یا 12 میں اسکے بعد اپ لوگ انسے دور ہوگۓ اور وہ غلیظ لوگ جو اج انکو چھوڑ کر ادھر اُدھر بھاگ لیے کل تک انکے ساتھ تھے یہ پیار محبت کا دور ہے اپکے ہمارے ایک چیف کے حکم پر کراچی میں قتل و غارت رکی چاٸنا کٹنگ رکی بھتہ ختم ہوا تو یہ کام تو اپ پہلے بھی کر سکتے تھے لیکن اربناٸزیشن کو توڑنے اور مسلنے کے لیے کراچی کے ساتھ اپکو ایسا کرنا ہی تھا اربناٸزیشن تو پنجاب میں بھی ہے لاہور ہمارے سامنے ہے اپ اسکا حساب بھی برابر کر رہۓ ہیں لیکن پنجاب کی قیادت پہ پابندی ایسی نہیں جیسی الطاف حسین پہ ہے اس پر زرا سی اپکی توجہ ملک کے لیے کافی بہتر ہوسکتی ہے ایم کیو ایم ایک ہی ہے افاق احمد یا فاروق ستار ہم سے الگ نہیں PSP کی مرکزی رہنما بھی رابطے میں ہیں اس ملک کے لیے اور ملک کی ترقی کے لیے سوچیے ہم سب الگ الگ اوازوں کے ساتھ پاکستان ذندہ باد کہتے ہیں دکھ ہمیں بھی ہے چھے میجر کرنل سمیت فوجی جوانوں کا کاش یہ شہادت بھارت ایران افغانستان یا چین کی سرحدوں پر ہوتی افسوس ہوا کے وہ چند منحوس لوگ جو پاکستان کے خلاف پاکستانی سرزمین کو استعمال کر رہۓ ہیں انکی کمینگیوں نے شہید کیے ۔ ہم اج بھی کہتے ہیں کے ایک تھی ایم کیو ایم نہیں ایک ہے ایم کیو ایم اپنے ملک کی دفاع کیلیے پاک فوج کے اگے ہم کھڑے ہونگے پاکستان پاٸیندہ باد