مہاجروں کی پہلی سیاسی تنظیم آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن (APMSO) کہا جاتا ہے، جامعہ کراچی میں بانی وقائدِ الطاف حسین کی طرف سے 11 جون 1978 کو اے پی ایم ایس او وجود میں آئی اس تنظیم کو بنانے کا مقصد مہاجر کمیونٹی کا تعلیمی اداروں میں داخلے اور سول سروسز روزگار میں مہاجروں کے حقوق کی حفاظت اور مخصوص نسلی گروہوں کی جانب سے امتیازی سلوک اور جبر کے شکار مہاجروں کو انکے حقوق سے آگاہ کرنا اور انکے حقوق کی حفاظت کرنا تھا-
اے پی ایم ایس او اا جون 1978 کو قائم ہوئی اور اب 2018 ہے یعنی اس کے قیام کو 41 سال ہوگئے اے پی ایم ایس او کا قیام ملکی سیاست اور مہاجروں میں نئی سوچ نئی فکر کا آغاز رہا کیونکہ الطاف حسین ملک کے 98 فیصد لوگوں کی تقدیر بدلنا چاہتے ہیں۔
کوٹہ سسٹم کے ناسور کی بدولت کالجز یونیورسٹیز میں بھی داخلے پر پابندی ہر جانب سے مسائل میں گھرے کراچی کے نوجوانوں کو اپنے حقوق کے ملنے امید جاگی جب الطاف حسین نے اے پی ایم ایس او کی بنیاد رکھی جو ایک جامعہ سے شروع کی جانے والے تحریک تھی۔
اس طلباء تنظیم نے بہت تیزی سے ترقی کی طلباء جوق در جوق اے پی ایم ایس او کا حصہ بننے لگے اور پھر ااس طلباء کی تنظیم نے عوام میں اتنی مقبولیت حاصل کی کے مہاجر قومی موومنٹ کے نام سے ایک سیاسی جماعت بن کر ابھری اے پی ایم ایس او بننے کے بعد کالجز ،یونیورسٹیز میں مہاجر طلباء کے مسائل حل ہونے لگے-
اا جون ان تمام مظلوموں کے لیئے ایک عہد کا دن تصور کیا جاتا ہے جو پاکستان بننے کے بعد سے ظلم کی چکی میں پس رہے تھے مالی بحران کا شکار بے روزگاری مایوسی اور مسائل کے بھنور میں پھنسے ہوئے کوٹہ سسٹم کا شکار پڑھے لکھے ہونے کے باوجود کہیں سرکاری نوکری کے لیئے جاتے تو پہلا سوال سن کر ہی انکو ایک تکلیف کو سہنا پڑتا تعلیمی قابلیت ایک طرف اس بارے میں تو کوئی سوال کیا ہی نہیں جاتا تھا اسناد دیکھ کر صرف یہی کہا جاتا تھا اچھا تو پناہ گزین ہو مکڑ سمجھتے ہو کسے کہتے ہیں ہندستانی ہو جاؤ اپنے گھر جاؤ یہاں کیا لینے آئے ہو-
چالیس سالہ جدوجہد ایک طویل عرصہ جو پلک جھپکنے میں نہیں گزرا بلکہ ہزاروں نوجوانوں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اپنے قیمتی لہو سے اس وژن و مقصد کو آبیاری بخشی۔
اب تک کی تحریکی جدوجہد میں بہت سے موڑ آئے بہت سے نشیب وفراز آئے جیسا کے سب سے پہلے آفاق احمد نے رہیں جدا کرلیں مگر عوام کی جانب سے ان کو جوتوں کے ہار ملے پھر مصطفیٰ کمال کا گروپ سامنے آیا اس گروپ وہ لوگ شامل ہوئے جن کو بانی ایم کیو ایم نے تحریک سے جدا کردیا تھا انکے سامنے آنے پر بھی عوام نے انکو جوتوں کے ہار اور سڑے ہوئے ٹماٹر سے خوش آمدید کہا۔
اسٹیبلشمنٹ بری طرح ناکام ہوچکی تھی اور اپنی ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کے لیئے انھوں نے 23 اگست کو نئی قیادت کو یک دم لاکر کھڑا کردیا مگر یہاں بھی ناکامی کیونکہ مصنوعی قیادتیں جہاں بھی جاتی ہیں وہاں عوام کی زباں سے بانی ایم کیو ایم کے نعرے ہی بلند ہوتے ہیں۔
سلام ہے اے پی ایم ایس او کے بہادر نڈر کارکنان کو جنھوں نے بکنے سے انکار کیا جھکے سے انکار کیا ہمارے بہت سے طلباء ابھی بھی غائب ہیں جن کو ریجنرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے غائب کیا ہوا ہے جن کا تاحال کچھ نہیں معلوم اے پی ایم ایس او کے ان تمام طلباء کو تہہ دل سے سلام جو نعرہ حق لگارہے ہیں قائد سے وفاداری اپنی جانیں دے کر بھی نبھارہے ہیں-
صبح کا سورج نکلنے کو ہے بس اب دیر نہیں ذرا ٹہرو ساتھی ڈگمگانا نہیں سحر کا اجالا ہوگا اب اک دیس ہمارا ہوگا۔
