Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
بھینسوں‌ کے بعد آورہ کتوں‌ سے ملکی معیشت کا استحکام کیسے ممکن؟ | زرائع نیوز

بھینسوں‌ کے بعد آورہ کتوں‌ سے ملکی معیشت کا استحکام کیسے ممکن؟

شہرقائد میں کُتوں کی بڑھتی تعداد بےرحمانہ طریقوں سےمارنا غلط ہے….

کُتوں کو کوریااورچین کوبرآمدکرنےسے کثیرزرمبادلہ کاحصول ممکن ہوسکتاہے۔

کُتوں کی درست تعداد ”کُتاشماری“ کےبغیرممکن نہیں۔

(تجزیاتی رپورٹ:سیدمحبوب احمدچشتی)

شہرقائد میں کُتوں کی تعدادمیں مسلسل اضافہ شہریوں میں خوف وہراس پیداکرنےکاسبب بن رہا ہےدوسری جانب پاکستان میں کُتوں کو مارنے کا طریقہ کارانتہائی بے رحمانہ ہے۔

مختلف شعبئہ ہائےجات اورسول سوسائٹی سےتعلق والی شخصیات اس کتامارمہم کی سخت ترین مخالفت کرتےہیں اس حوالےسےکچھ مثبت تجاویز پرکام ہونےسے پاکستانی معیشت پراچھےاثرات مرتب ہوسکتے ہی دلچسپ اتفاق یہ ہے کہ مصر پر بھی بیرونی قرضے پاکستان کی طرح 92 ارب ڈالر ہیں۔

صرف چند کروڑ کا فرق ہے۔ مصر بھی کبھی ورلڈ بینک اور کبھی آئی ایم ایف کی دیلیز پر کشکولِ گدائی لئے کھڑا آتا ہے مصری وزیراعظم مصطفیٰ مدبولی کی حکومت بھی معیشت سدھارنے کیلئے مختلف پلان تشکیل دے کر ہاتھ پاؤں مار رہی ہے.

مصری پارلیمنٹ کی رکن محترمہ مارگریٹ عازر نے حکومت کو  مشورہ دیتے ہوئے پارلیمنٹ میں تجویز پیش کی کہ کیوں نہ ہم ملک بھر کے آوارہ کتوں کو جمع کریں اور پھر کتا کھانے والے ممالک مثلاً کوریا کو فروخت کر کے اچھا خاصا زرمبادلہ کمائیں مصری سڑکوں میں بھی آوارہ کتوں کی بہتات ہے، جیسے نئے پاکستان میں مارگریٹ کی اس تجویز پر اگرچہ جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے اعتراض کیا ہےلیکن ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مصداق ماہرین معیشت اس اہم نکتے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

کوریا سے اس حوالے سے مذاکرات کا بھی امکان ہے جنوبی کوریا میں کتے بڑے پیمانے پر کھائے جاتے ہیں۔  Dog Meat کورین باشندوں کی فیورٹ غذا ہے کورین اینمل رائٹس ایڈوکیٹس کے مطابق کورین سالانہ 9 لاکھ 80 ہزار سے 10 لاکھ کتے چٹ کر جاتے ہیں۔

اس تعداد میں ہر سال 20 سے 30 فیصد اضافہ ہوتاجارہا ہےہر کورین باشندہ اوسطاً چار سو ڈالر ماہانہ کتے کا گوشت خریدتا ہے۔ کوریا میں کتے کا گوشت 18 ڈالر (2213 روپے) کا کلو ہےقبل اس کے کہ مصر اس معاملے میں سبقت لے جائے، ہماری نئی حکومت کو چاہئے کہ فوراً کوریا وفد بھیج دے۔

کوریا کے سفیر سے بھی بات کی جا سکتی ہے سی این این کے ذرائع کےمطابق کوریا میں کتوں کی بہت زیادہ قلت ہو گئی ہے۔ امید ہے کہ اچھا دام مل جائے گا۔ اس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ آوارہ کتوں سے شہریوں کی جان چھوٹ جائے گی، جو آئے روز بچوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔

دوسرا معیشت کو سہارا مل جائے گا۔ ظاہر ہے جب چند بھینسیں معیشت سدھارنے میں اپنا ’’لازوال‘‘ کردار ادا کر سکتی ہیں، لاکھوں کتوں کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ مشکل وقت میں جب آپ کڑوا گھونٹ پینے اور آئی ایم ایف سمیت دیگرممالک کے سامنے دستِ سوال پھیلانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں تو اپنے ہی ’’ہم وطن‘‘ کتوں کی ’’خدمات‘‘ حاصل کیوں نہیں کر سکتے؟ کوریا کی سال بھر کی ضرورت کو صرف کراچی کے کتے ہی پورا کر سکتے ہیں،کراچی کے قریب ’’بُڈو‘‘ نامی ایک جزیرہ ہے، جو صرف کتوں سے آباد ہے۔ جہاں 30 ہزار سے زائد کتے موجود ہیں۔سگ گزیدگی کےواقعات میں خطرناک اضافےکومدنظررکھتےہوئےاس عمل سےبہتری آنےکی امیدپیداہوسکتی ہے شرط صرف عمل شفافیت کویقینی بنانا ہے۔۔