سندھ کے علاقے گھوٹکی سے تعلق رکھنے والے میر افتخار لوند اور دیگر تین افراد نے رواں سال اپریل میں ایک وین ڈرائیور اللہ رکھیو کو غیر انسانی تشدد کا نشانہ بناکر سرعام سزا دی تھی جس کے بعد پی ٹی آئی رہنما کے خلاف ایف آئی بھی کٹی۔
زاید حسین جو اللہ رکھیو کے صاحبزادے ہیں اُن کا کہنا تھا کہ شفیق لوند سے اختلاف پر پی ٹی آئی کے رہنما نے والد کو اپنی رہائش گاہ بلایا جہاں پر دیگر تین افراد شفیق ، ممتاز اور علی لوند موجود تھے انہوں نے والد کو بہیمانہ اور غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا۔
واقعے کے بعد خانپور مہر پولیس اسٹیشن میں متاثرہ شخص کی شکایت پر افتخار، ممتاز، شفیق اور رفیق لوند کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 324 (اقدام قتل)، 355 (کسی شخص کی بے عزتی کے لیے مقصد کے ساتھ مجرمانہ فعل) اور 143 کو شامل کیا گیا، تاہم اثرورسوخ کی وجہ سے پولیس نے ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی اُس کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا گیا۔
اب خبر آئی ہے کہ اُسی لوند کو وزیربرائے انسانی حقوق شیری مزاری نے فوکل پرسن (ترجمان) مقرر کرنے کا حکم دیا جس کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیاگیا۔ البتہ دیگر سیاسی جماعتوں کے سینیٹرز نے اس معاملے پر تفصیل طلب کرلی۔
وزارت کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹی فکیشن کے مطابق میر افتخار صوبے کے ترجمان ہیں، تقرری کے بعد میر افتخار لوند نے من پسند پوزیشن پر براجمان ہوتے ہی اپنی ’کامیابی‘ کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے میں وقت نہیں لگایا، اس بات کا احساس کیے بغیر کہ ان کے اس اقدام سے انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں، سول سوسائٹی گروپس کے اراکین اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سخت ردعمل آسکتا ہے۔
تاہم سوشل میڈیا اور مرکزی میڈیا پر آنے والا سخت ردعمل بھی وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری اور ان کی وزارت کو متوجہ نہیں کرسکا۔
