لاہور: شیخ رشید احمد نے جب سے وزارتِ ریلوے کا قلمدان سنبھالا ٹرین حادثات میں اضافہ ہوگیا اور گیارہ ماہ میں 79 کے قریب حادثات رپورٹ ہوچکے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اگست 2018ء میں شیخ رشید کو ریلوے کی ذمہ داریاں سنبھالنے کا قلمدان سونپا، انہوں نے 26 کے قریب نئی ٹرینیں اور محکمے کو خسارے سے نکال کر اربوں روپے کا ریونیو بنانے کا دعویٰ بھی کیا۔
البتہ اگست 2018 سے جولائی 2019ء تک ملک بھر میں ٹرینوں کے 79 چھوٹے بڑے حادثے ہوچکے جس میں انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ محکمہ کو کروڑوں روپے کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔ ایکسپریس نیوز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثات کی سب سے بڑی وجہ ناتجربہ کار جنرل مینیجر ریلوے آپریشن آفتاب اکبر کی اہم پوسٹ پر تعیناتی ہے۔ انہوں نے غلط حکمت عملی کی وجہ سے دیگر اہم پوسٹوں پر بھی جونیئر اور ناتجربہ کار افسروں کو لگایا ہوا ہے جبکہ سینئر افسران کئی ماہ سے تقرری کے منتظر ہیں۔
جون میں سب سے زیادہ 20 حادثے ہوئے۔ یکم جون کو لاہور یارڈ میں ٹرین ڈی ریل ہوگئی۔ 3 جون کو عید اسپیشل ٹرین لالہ موسی اسٹیشن کے قریب پٹری سے اتر گئی۔ 5 جون کو فیصل آباد اسٹیشن کے قریب شاہ حسین ٹرین کی بوگیاں پٹری سے اترگئیں۔ 5 جون کو ہی کراچی ڈویژن میں کینٹر ٹرین کو حادثہ ہوا اور تھل ایکسپریس ٹرین کی پانچ بوگیاں بھی کندھ کوٹ کے قریب پٹری سے اترگئیں۔
6 جون کو قراقرم ایکسپریس ٹرین کی بوگیاں فیصل آباد اسٹیشن کے قریب پٹری سے اتری گئیں۔ 7جون کو اسلام آباد ایکسپریس ٹرین گجرات کے قریب موٹر سائیکل سے ٹکرا گئی۔ 8 جون کو کراچی ڈویژن میں بولان ایکسپریس ٹرین کو حادثہ پیش آیا۔ 15 جون کو سندھ ایکسپریس ٹرین سکھر یارڈ میں پٹری سے اترگئی۔ 16 جون کو مال بردار ٹرین روہڑی اسٹیشن کے قریب پٹری سے اترگئی۔ 18 جون کو ملتان ڈویژن میں ہڑپہ اسٹیشن کے قریب جناح ایکسپریس ٹرین کی ڈائننگ کار کو آگ لگ گئی۔ 18 جون کو ہی کوئٹہ ڈویژن میں مال بردار ٹرین پٹری سے اترگئی۔ 19 جون کو کراچی ڈویژن میں رحمٰن بابا ایکسپریس ٹرین کی زد میں گاڑی آگئی جس میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔
20 جون کو حیدرآباد اسٹیشن کے قریب جناح ایکسپریس ٹرین مال بردار ریل گاڑی سے ٹکراگئی جس کے نتیجے میں ٹرین ڈرائیور اور اسسٹنٹ ٹرین ڈرائیور جاں بحق ہوگئے۔ 21 جون کو ہری پور کے قریب راولپنڈی ایکسپریس کی زد میں کار آگئی۔ 22 جون کو لاہور ریلوے اسٹیشن کے یارڈ میں کراچی جانے والی تیزگام کی بوگیاں پٹری سے اترگئیں۔ 23 جون کو لانڈھی اسٹیشن کے قریب جناح ایکسپریس ٹرین کو حادثہ پیش آیا۔ 24 جون کو راولپنڈی ڈویژن میں کوہاٹ ایکسپریس کی زد میں موٹر سائیکل آگئی۔ 27 جون کو بدر ایکسپریس مسکالر اسٹیشن کے قریب ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا گئی۔ 28 جون کو فرید ایکسپریس اور دوسری ٹرین کے انجن میں تصادم ہوا اور 29 جون کو راولپنڈی ایکسپریس کی زد میں موٹر سائیکل آگئی۔
