جمیعت علماء اسلام ف کے رہنما اور سابق رکن صوبائی اسمبلی مفتی کفایت اللہ پر قاتلانہ حملے کی ناکام کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوئے۔
مفتی کفایت اللہ کے ترجمان کی جانب سے تصدیق کی گئی کہ جے یو آئی کے رہنما گزشتہ شب مانسہرہ میں داخل ہورہے تھے کہ اسی دوران اُن کی گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی اور فرار ہوگئے۔ گولیاں لگنے سے مفتی کفایت اللہ شدید زخمی ہوئے اور پھر انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
ڈاکٹرز نے سابق رکن صوبائی اسمبلی کی طبیعت خطرے سے باہر قرار دیتے ہوئے اُن کا علاج شروع کردیا، امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایک دو روز میں انہیں اسپتال سے گھر بھیج دیا جائے گا۔ جمعیت علماء اسلام ف کی مرکزی قیادت نے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کردیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ مفتی کفایت اللہ کو ایک انٹرویو نشر ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد انہیں ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہائی ملی۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے مفتی کفایت کو فون کر کے خیریت دریافت کی اور جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
