کراچی: نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے خلاف غیرقانونی اسلحہ اور دھماکا خیزمواد رکھنےسے متعلق کیس میں انسداد دہشتگردی عدالت نے راؤ انوار کی ضمانت منظور کرلی۔
تفصیلات کے مطابق سابق ایس ایس پی پروٹوکول میں بغیر ہتھکڑیوں کے اے ٹی سی پہنچے جہاں پہلے ہی اعلیٰ اور تفتیشی افسران اُن کے منتظر تھے۔
راؤ انوار کے وکلاء اور میڈیا نمائندگان بھی مرکزی ملزم کا اتنظار کررہے تھے، بعد ازاں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں راؤ انوار کے خلاف غیر قانونی اسلحہ اور دھماکا خیز مواد رکھنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی اور عدالت نے ملزم کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔
ذرائع کے مطابق نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم راؤ انوار کو عدالت نے 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
راؤ انوار کی اس سے قبل بھی عدالت نے ضمانت منظور کی تھی اور 10 لاکھ روپے زرضمانت کے مچلکے جمع کرانے کاحکم دیا لیکن غیر قانونی اسلحہ اور دھماکا خیز مواد رکھنے کے مقدمے میں ضمانت نہ ہونے کے باعث انہیں رہائی نہیں مل سکی تھی۔
اب سابق ایس ایس پی ملیر کو ایک مقدمے میں ضمانت ملنی لازمی ہے جس کے بعد وہ رہا ہوجائیں گے اور ایک ماہ کے بعد دوبارہ اپنے عہدے پر بحال ہوجائیں گے۔
خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
