کراچی: شہر قائد کے علاقے ڈیفنس سے اغوا اور پھر بازیاب ہونے والی دعا منگی نے تفتیشی ٹیم کو اپنا پہلا بیان ریکارڈ کرادیا۔
حساس اداروں اور پولیس کے اعلیٰ افسران پر مبنی تفتیشی ٹیم گزشتہ روز دعا منگی کے گھر پہنچی جہاں انہوں نے بازیاب ہونے والی لڑکی سے ملاقات کی اور اُس کا پہلا بیان بھی ریکارڈ کیا۔ دعا منگی نے تفتیشی ٹیم کو بتایا کہ حارث اور میں چائے کے ہوٹل سے اٹھ کر ٹہلنے نکلے کہ اچانک دو لوگوں نے مجھے پکڑ کر گاڑی میں ڈالا، اس کے بعد شور ہونے لگا، پھر اچانک گولی چلنے کی آواز آئی۔
دعا منگی نے بیان میں کہا کہ ملزمان نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر گھماتے رہے۔ ملزمان نے مجھے 3 بار دوسری گاڑیوں میں منتقل کیا اور گھماتے رہے، میں کسی شخص کا چہرہ نہیں دیکھ سکی اور اغوا کار کھانا کھلاتے وقت آنکھوں سے پٹی ہٹاتے تھے۔
لڑکی نے بتایا کہ ہر بار کھانا دینے والے ملزم کی آواز علیحدہ ہوتی تھی، ملزمان میرے ہاتھ پاؤن باندھ کر کانوں میں ائیرفون لگا دیتے تھے، تین روز تک مجھے آنکھوں پر پٹی باندھ کر رکھا گیا۔
دوسری جانب اب تک نیوز کے بیورو چیف نے امتیاز چانڈیو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر دعویٰ کیا کہ دعا منگی حقائق چھپا رہی ہیں مگر جلد ہی بہت اہم شواہد سامنے آنے والے ہیں۔
دعا منگی صاحبہ تفیتشی اداروں سے حقائق کیوں چھپا رہی ہے؟ جس رات بازیاب ہوئی اس رات کے اہم حقائق منظر پر آنے والے ہیں۔
— Imtiaz Chandio (@imtiazchandyo) December 11, 2019
