کراچی: شہر قائد سے قتل، بھتہ خوری کے الزام میں گرفتار ہونے والے ایم کیو ایم لندن کے پانچ اور چار مفرور کارکنان کو عدالت نے بے گناہ قرار دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز انسداد دہشت گردی کی عدالت میں شہریوں کے اغوا، قتل کے دو مقدمات کی سماعت ہوئی جس میں ایم کیو ایم لندن کے گرفتار پانچ کارکنان کو بھی پیش کیا گیا، تفتیشی افسر کی جانب سے سماعت پر شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
انسداد دہشتگردی عدالت نے 5 مبینہ ٹارگٹ کلرز کوشواہد نہ ملنے پر شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا، بری کیےگئے ملزمان کا تعلق پولیس نے متحدہ لندن سے ظاہر کیا تھا۔عدالت کی جانب سے بے گناہ قرار دیے گئے ملزمان میں نور الدین عرف لال بال، محمد کامران عرف مکینک، یونس عرف لمبا، صلاح الدین اور آصف علی عرف مستری شامل ہیں۔
دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزم نورالدین کو پولیس کو دیے گئے اعترافی بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، جج نے مقدمے میں نامزد چار مفرور ملزمان سلیم شیخ، حیات، راجہ اور راشد جمیل کو بھی بے گناہ قرار دیتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دیا۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے اورنگی ٹاؤن میں ہوٹل مالک آزاد حسن کو اغوا کیا اور پھر اُسے قتل کر کے لاش کے ٹکڑے کر کے پھینک دیے تھے، ملزمان نے مقتول کی لاش کو پلاسٹک بیگ میں ڈال کچرا کنڈی میں پھینکا، ملزمان کے خلاف پاکستان بازار اور پیرآباد تھانے میں مقدمات درج ہوئے تھے۔
