بھارت کے شہر امروہہ سے تعلق رکھنے والے صحافی، مدیر اور نامور شاعر رئیس امروہوہی کے حوالے سے برسوں یہ افواہ گرم رہی کہ انہیں ایم کیو ایم نے قتل کروایا۔
جون ایلیا کے بڑے بھائی رئیس امروہوہی ایم کیو ایم سے کھل کر اختلافات رکھتے تھے جس کا انہوں نے بارہا اظہار بھی کیا، اُن کی حادثاتی موت ہوئی جس کے بعد یہ تاثر دیا گیا کہ رئیس امروہوہی کو ایم کیو ایم نے اختلافات رکھنے پر قتل کروایا۔
البتہ اس حقیقت سے پردہ اٹھایا سینئر صحافی اور رئیس امروہوہی کے قریبی دوست شکیل عادل زادہ نے اور بتایا کہ امرہوہی صاحب کا قتل نہیں کیا گیا بلکہ اُن کی موت حادثاتی تھی۔
شکیل عادل زادہ کے مطابق ’’رئیس امروہوہی الماری پر کتابیں تلاش کرنے کے لیے اسٹول پر چڑھے تو اسی دوران وہ پنکھے کی زد میں آگئے جس کے نتیجے میں گہری چوٹیں آئیں، چونکہ اُن کا کمرہ دور تھا اس لیے اُن کے چیخنے کی آوازیں گھر والوں تک بہت دیر سے پہنچیں، وہ شدید زخمی حالت میں اہل خانہ کو آخری وقت میں پنکھا پنکھا بولنے کی کوشش کررہے تھے‘‘۔
شکیل زادہ کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں امروہوہی صاحب کی موت بھی اس حادثے کا شاخسانہ ہے، کیونکہ اگر اُن کا قتل کیا جاتا تو واقعے کی تحقیقات ہوتیں، قانونی کارروائی کی جاتی مگر ایسا نہ ہوسکا۔ اُن کا کہنا تھا کہ امروہوہی صاحب کے عزیز و اقارب اور اہل خانہ نے اس بات پر خاموشی اختیار کی۔
کیا ایم کیو ایم کے قیام میں امروہوہی صاحب کا کوئی کردار تھا؟

نوٹ: شکیل عادل زادہ کا تفصیلی انٹرویو روزنامہ ایکسپریس نیوز کے سنڈے میگزین میں شائع ہوا جسے درج ذیل لنک پر پڑھا جاسکتا ہے۔
https://www.express.pk/story/1963259/1/
