Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
کرونا وائرس روک تھام، فوج کے ذیلی ادارے کو سینیٹائزر بنانے کا این او سی جاری | زرائع نیوز

کرونا وائرس روک تھام، فوج کے ذیلی ادارے کو سینیٹائزر بنانے کا این او سی جاری

اسلام آباد: فوج کے ذیلی ادارے کو سینیٹائزر بنانے کا این او سی جاری دیا گیا، کرونا وائرس کی وبا کے خدشے کے پیش نظر پہلے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فیس ماسک بازاروں سے غائب ہوئے اور اب ہینڈ سینیٹائزر ناپید ہو چکے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے انڈپینڈنٹ اردو کی نمائندہ مونا خان کو بتایا کہ گذشتہ دنوں شہر میں تقریباً 50 لاکھ روپے کے سینیٹائزر فروخت ہوئے، جس کے بعد اب قلت کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر شہری انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر فوج کے ذیلی ادارے ڈفنس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (ڈیسٹو ) کو سینیٹائزر بنانے کا این او سی جاری کیا تاکہ عوام کی پریشانی کو دور کیا جاسکے۔

ماہرین صحت کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ہاتھ بار بار دھونے کی ہدایت کرتے ہیں تاکہ جراثیم نہ پھیلیں۔ اگر پانی میسر نہیں تو ایتھنول سے بنا جراثیم کش لیکوڈ سے، جسے سینیٹائزر کہا جاتا ہے، ہاتھ صاف کرنے چاہییں۔ حمزہ شفقات کے مطابق سینیٹائزر کی بے پناہ طلب کی وجہ سے ایتھنول ختم ہو چکا ہے اور اب اسے درآمد کیا جا رہا ہے تاکہ جلد ہینڈ سینیٹائزر بنائے جا سکیں۔

ڈی سی اسلام آباد نے بتایا کہ فیس ماسک پہننے کا فائدہ نہیں۔’اصل آگاہی یہ ہے کہ ہاتھ دھوئیں اور انہیں صاف رکھیں۔‘ انہوں نے بتایا کہ ایک لاکھ ماسک پہلے ہی تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ عوام کی آگاہی کے لیے 10 ہزار پمفلٹ چھپوائے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ مدرسے بند کرنے میں تھوڑی مشکل پیش آ رہی تھی لیکن 90 فیصد مدارس بند کروا دیے گئے ہیں، البتہ پناہ گاہیں ابھی بند کرنے کا فیصلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں جو کیس مثبت آئے ہیں اُن کے قریبی 93 لوگوں سے رابطہ کر کے اُن کے بھی ٹیسٹ کروا لیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں ابھی یعنی 16 مارچ کی دوپہر دو بجے تک کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد بڑھ کر 94 سے تجاوز کرچکی جن میں سے ایک مریضہ کی طبیعت ناساز ہے، سب سے زیادہ کیسز سندھ میں رپورٹ ہوئے جہاں مریضوں کی تعداد 76 سے تجاوز کرچکی۔